اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

قائد حزبِ اختلاف کا امتحان

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کے تقرر سے جمہوری پارلیمانی سیاست کی ایک بڑی شرط پوری ہو گئی ہے۔ جمہوری نظام میں حزبِ اختلاف کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاتا؛ چنانچہ حزبِ اختلاف کے پارلیمانی قائدین کی اہمیت از خود واضح ہو جاتی ہے۔ تاہم پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں گزشتہ برس سابقہ قائدینِ حزب اختلاف کی عدالتی سزاؤں سے ہونے والی نااہلی کے بعد کم وبیش چھ ماہ سے یہ نشستیں خالی رہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کی بطور قائد حزبِ اختلاف نامزدگی کے باوجود ان اہم عہدوں پرتقرری کا عمل بوجوہ تعطل کا شکار تھا۔ اب جبکہ قومی اسمبلی کے قائد حزبِ اختلاف کی تقرری عمل میں آ چکی ہے اور سینیٹ میں بھی یہ عمل مکمل ہوا چاہتا ہے‘توقع کی جا سکتی ہے کہ نئے قائدین حزبِ اختلاف ایوانِ پارلیمان میں نئی شروعات کریں گے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کے تعلقات میں اصولی اختلاف کا عنصر قدرتی امر ہے مگر اس اختلاف کو منافرت‘ تعصب اور عناد کا رنگ دینا مناسب نہیں کہ شخصی‘ سیاسی اور قومی سطح پر اس کے نقصانات غیر معمولی ہیں۔

مستحکم جمہوری نظام میں سیاسی اختلافات کے باوجود شخصی احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے اور آئینی و قانونی حقوق کی خلاف ورزی کا سوچا بھی نہیں جا سکتا مگر ہمارے ہاں سیاسی اختلافات کو جس طرح ذاتی دشمنی میں بدل دینے کی روایت رہی ہے اس کے نتیجے میں سیاست میں تحمل کے بجائے اشتعال غالب رہا ہے۔ اس رویے کو تبدیل کرنے کیلئے سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے اور قائدین حزبِ اختلاف اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یقینا حکومتی فریق کی ذمہ داری بھی بنتی ہے مگر صرف ایک فریق کے چاہنے سے کچھ نہیں ہو سکتا‘ سیاسی ماحول اسی صورت خوشگوار ہو گا جب دونوں فریق ایسا چاہیں اور دل سے چاہیں۔ قومی اسمبلی کے قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا شمار ملک کی قد آور سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے۔ شاید ان کی اسی حیثیت کے پیش نظر حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی پر اتفاق کیا ہو‘ بہرکیف قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کا منصب اچکزئی صاحب کی صلاحیتوں اور بصیرت کا امتحان ہے۔

ان کی ذات پر حزبِ اختلاف کا اتفاق اور بالآخر حکومت کی جانب سے اس کی توثیق سے اچکزئی کی حیثیت حکومت اور حزبِ اختلاف کے مابین پل کی سی ہے۔ یہ پل ایسے وقت میں تعمیر ہوا ہے جب اس کی اشد ضرورت ہے۔ ملک کے سیاسی‘ معاشی‘ سماجی اور علاقائی حالات سیاسی اتفاق رائے کا تقاضا کرتے ہیں۔ سیاسی ماحول میں مسلسل تناؤ نہ صرف قومی امور میں مشکلات کا سبب بنتا ہے بلکہ معاشی اعتماد کی بحالی میں بھی اس سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے انکار ممکن نہیں۔ علاقائی اور عالمی حالات کے پیش نظر بھی قومی سطح پر ہم آہنگی اور اتفاق واتحاد کی ضرورت ہے۔ اس طرح حکومت کے سیاسی چیلنجز کم ہو سکتے ہیں اور معاشی استحکام اور قومی ترقی کے امور پر زیادہ توجہ دی جا سکتی ہے۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران اس حوالے سے ہونے والی پیش رفت کوحوصلہ افزا قرار دیا جا سکتا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی میں مکالمے کا

عندیہ خوش آئند ہے‘ مگر یہ محمود اچکزئی کی بطور قائد حزبِ اختلاف پہلی آزمائش بھی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف میں مل بیٹھنے کو یقینی بنانے میں اچکزئی کوئی کردار ادا کر پاتے ہیں یا نہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کے منصب پر فائز ہو کر اگر محمود خان اچکزئی صرف ایوان اسمبلی میں دھواں دھار تقریروں سے ماحول گرمانے تک محدود رہے تو یہ کوئی بڑی بات نہ ہو گی۔ اہم بات تو یہ ہے کہ وہ ملکی سیاست میں کوئی ایسی مثال چھوڑ جائیں جس کے محاسن مدتوں یاد رکھے جائیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں