اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

قومی یکجہتی کے تقاضے

وزیراعظم شہباز شریف نے غربت‘ بیروزگاری کے خاتمے ‘ قرضوں سے نجات اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے  عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی۔ وزیر اعظم کے اس بیان کو ملک کے سیاسی‘ معاشی اور سماجی حالات کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ملک عزیز جن سیاسی‘ معاشی اور اقتصادی چیلنجز سے گزر رہا ہے ان کا حل صرف حکومتی فیصلوں یا اعلانات سے ممکن نہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ موجودہ حکومت نے ڈیفالٹ کے کنارے پر کھڑی معیشت کو دیوالیہ پن سے بچایا مگر صنعتی ترقی‘ سرمایہ کاری اور قومی پیداوار میں خاطر خواہ اضافے کیلئے ابھی بہت کچھ کیا جانا ضروری ہے۔ معاشی اشاریے کسی طرح بھی خوش آئند نہیں ہیں۔ برآمدات میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی‘ اہم صنعتی شعبے زوال کا شکار ہیں‘ مہنگائی کی شرح میں کہنے کو کمی آئی ہے مگر عام آدمی کی قوت خرید اس قدر کم ہے کہ مہنگائی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔اگرچہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض معاہدے کے بعد اقتصادی کھاتوں میں جان پڑی ہے مگر یہ کوئی پائیدار بندوبست تو نہ ہوا۔

معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے جو کچھ کیا جانا ضروری ہے ا س کیلئے سیاسی مفاہمت اور قومی یکجہتی لازم و ملزوم ہے مگر ملکی سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں تواتفاقِ رائے ناپید ہے۔ان حالات میں سیاسی قوتوں پر فرض ہے کہ ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد کو پیش نظر رکھیں‘ سوچیں اور عمل کریں۔ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ کمزور معیشت اور بڑھتا ہوا قرض پاکستان کے عام شہری کی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے کیے گئے معاہدے وقتی سہارا تو فراہم کرتے ہیں مگر مستقل حل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اندرونی طور پر معاشی نظم و ضبط‘ ٹیکس اصلاحات اور پیداواری شعبوں کی بحالی پر قومی اتفاق نہ ہو۔ معاشی اصلاحات مشکل فیصلوں کا تقاضا کرتی ہیں مگر یہ فیصلے صرف اسی وقت قابلِ قبول ہوتے ہیں جب قوم کو یہ اعتماد ہو کہ بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو رہا ہے۔معاشی مسائل کا سیاسی کمزوریوں اور فیصلوں کے بحران سے قریبی تعلق ہے۔

اگر آج ہماری صنعتیں توانائی بحران‘ زیادہ لاگت اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کے باعث مشکلات کا شکار ہیں،یہ معاشی اور اقتصادی حالات سیاسی حالات کے نتائج ہیں ۔ زراعت جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے جدید ٹیکنالوجی اور حکومتی توجہ کی کمی کا شکار ہے‘ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا بھی اقتصادی دباؤ کو بڑھا رہا ہے۔ ان مسائل کے حل کیلئے حکومت‘ عوام‘ صنعت کاروں‘ سرمایہ کاروں اورسیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے ۔ قومی یکجہتی کا مطلب یہی ہے کہ تمام طبقات اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور مشترکہ جدوجہد کریں۔سیاسی اور معاشی بحران کے اثرات سماجی سطح پر بھی تقسیم کی صورت میں نظر آتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا اختلافِ رائے کونفرت اور تضحیک میں بدل رہا ہے‘ جس سے سماجی ہم آہنگی مزید متاثر ہو رہی ہے۔ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائے۔

برداشت‘ رواداری اور قانون کی بالادستی وہ ستون ہیں جن پر مضبوط قومیں تعمیر ہوتی ہیں۔ وزیراعظم کا بیان اس امر کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کو اس وقت صرف معاشی پیکیجز یا سیاسی بیانات نہیں بلکہ ایک واضح قومی سمت درکار ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب حکمران ‘ اپوزیشن اور عوام‘ سبھی ایک صفحے پر ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بحرانوں سے اسی وقت نکلتی ہیں جب متحد ہو کر فیصلے کرتی ہیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قومی یکجہتی کوئی وقتی نعرہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل دیانتدار قیادت‘ مضبوط اداروں اور باشعور عوام کے امتزاج سے آگے بڑھتا ہے۔ ملک عزیزکو سیاسی استحکام‘ معاشی خود کفالت اور اقتصادی ترقی کی راہ پر ڈالنا ہے تو اختلافات کو کم کر کے اتفاق کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں