پولیو کے خدشات
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے چاروں صوبوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے مزید اقدامات کی متقاضی ہے۔ قومی ادارۂ صحت اور نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کی جانب سے ملک بھر کے 87 اضلاع کے 127 سیوریج نمونوں میں سے 40 میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ بلوچستان سے دو‘ پنجاب سے چھ‘ خیبر پختونخوا سے آٹھ‘ سندھ سے 23 سیوریج نمونے جبکہ اسلام آباد کا بھی ایک نمونہ پولیو وائرس کیلئے مثبت آیا۔ یہ تشویشناک نتائج پولیو کے خاموش پھیلائو کے خدشے کو بڑھا دیتے ہیں۔ یہ اس بات کا بھی اظہار ہیں کہ مسلسل حکومتی کاوشوں کے باوجود پولیو کے خاتمے کی مہم ثمر آور ثابت نہیں ہو رہیں ‘لہٰذا اس حوالے سے حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک عزیز میں پولیو کی ویکسی نیشن مہم تو دہائیوں سے چلائی جا رہی تاہم اس مقصد کیلئے محض ویکسین کافی نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں شامل ہو رہا ہو تو وائرس دوبارہ پھیلنے کا خدشہ برقرار رہتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت پولیو ویکسی نیشن کے ساتھ سیوریج اور صفائی کے منصوبوں پر بھی توجہ دے تاکہ پینے کے پانی کو پولیو وائرس سے مکمل پاک کیا جا سکے۔ پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے اس کے وائرس کی افزائش کے ذرائع بھی ختم کرنا ہوں گے۔