پلازہ آتشزدگی
کراچی صدر کے علاقے میں ایک پلا زے میں پیش آنے والا آتشزدگی کا واقعہ شہر کے تجارتی مراکز میں حفاظتی انتظامات کی ابتر صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ آگ لگنے کی بنیادی وجہ بظاہر شارٹ سرکٹ بتائی جاتی ہے جبکہ جگہ جگہ پلاسٹک‘ کپڑے‘ الیکٹرانکس اور کیمیکلز نے معمولی چنگاری کو بڑی تباہی میں بدل دیا۔ اس تجارتی عمارت میں ہنگامی اخراج کے راستے کا نہ ہونا فائر فائٹر سمیت کم از کم چھ قیمتی جانوں کے ضیاع کی بنیادی وجہ بنا۔ عمارت کے اند آگ بجھانے والے آلات کی عدم موجودگی بھی شدید نقصان اور سینکڑوں دکانوں کے جلنے کا سبب بنی۔ تنگ گلیوں اور تجاوزات نے امدادی کاموں میں رکاوٹیں پیدا کیں جبکہ فائر بریگیڈ کے بوسیدہ آلات‘ گاڑیوں میں پانی کی قلت اور عملے کے پاس حفاظتی کٹس کی عدم دستیابی آگ بجھانے میں تاخیر کا سبب بنی۔

گزشتہ سال شہرِ کراچی میں 2500 سے زائد چھوٹے بڑے آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 26 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ بڑے تجارتی مراکز اور کمرشل عمارتیں بار بار ان حادثات کا شکار ہو چکیں مگر اس کے باوجود بلڈنگ بائی لاز‘ فائر آڈٹ اور کمرشل عمارتوں کے این او سی کے اجرا میں حفاظتی جانچ پڑتال کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ اصل مسائل ہیں جن کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کو ایک انتباہ کے طور پر لے اور تمام کمرشل عمارات کا ازسرنو سیفٹی آڈٹ یقینی بنائے۔