ٹرمپ بورڈ آف پیس
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے مجوزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے۔ بورڈ آف پیس کو صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے اور اس کیلئے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر‘ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر‘ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو‘ مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف‘ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان‘ قطری سفارتکار علی الثوادی‘ اقوام متحدہ کی مشرق وسطیٰ امن کی رابطہ کار سگریڈ کاگ‘ متحدہ عرب امارات کی وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الہاشمی‘ اسرائیلی ارب پتی یاکیر گابے اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگا کے نام سامنے آئے ہیں۔ ترکیہ اور مصر کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ صدر رجب طیب اردوان اور عبدالفتاح السیسی کو بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے جبکہ یورپی یونین کے ایک اہلکار کے بیان کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین کو بھی یورپی یونین کی نمائندگی کیلئے مدعو کیا گیا ہے۔

بعض خبروں کے مطابق فرانس‘ جرمنی‘ آسٹریلیا اور کینیڈا کے رہنماؤں کو بھی یہ پیشکش ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے آنے والے ہفتوں میں مزید ناموں کا اعلان کئے جانے کا بھی کہا گیا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو یہ عالمی اور علاقائی رہنماؤں پر مشتمل ایک بڑا پلیٹ فارم تشکیل پاتا ہے مگر اس مجوزہ بورڈ میں کسی فلسطینی کا نہ ہونا کئی سوال پیدا کرتا ہے۔ مجوزہ بورڈ آف پیس کو غزہ میں عارضی حکومت کی نگرانی کا کام سونپا جائے گا‘ مگر اسرائیل کی جانب سے مجوزہ بورڈ آف پیس کے خلاف بیان بازی اور اسے اسرائیلی پالیسی کے برعکس قرار دیے جانے کی خبروں سے امن کی پائیدار کوششوں پر اوس پڑ گئی ہے۔ اگرچہ اکتوبر 2025ء سے غزہ میں جنگ بندی ہے مگر اسرائیل کی جانب سے غزہ کے مکینوں تک امداد کی راہ میں رکاوٹیں بدستور موجود ہیں اور تباہ حال علاقے میں خوراک‘ طبی سہولتوں اور پناہ گاہوں کی شدید قلت ہے۔ حالیہ دنوں وہاں شدید بارشوں‘ طوفانی ہواؤں اور سردی کی شدت کی وجہ سے بے گھر افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اس دوران 30 سے زائد افراد موسمی شدت‘ بھوک اور بیماری کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔ صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ناقدین اسے اقوام متحدہ کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایک تازہ خبر میں یورپی سفارتکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’ٹرمپ اقوام متحدہ‘ قرار دیا ہے جو بقول اُن سفارتکاروں کے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کر رہی ہے۔ بعض دیگر مغربی سفارتکاروں کے مطابق یوں لگتا ہے کہ یہ آگے چل کر اقوام متحدہ کو کمزور کر ے گا۔ یہ خدشات اپنی جگہ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اقوام متحدہ اپنی افادیت اور اتھارٹی کے نفاذ میں عملاً کامیاب ثابت نہیں ہو پائی۔ ایسے کتنے ہی عالمی تنازعات ہیں بشمول مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین‘ جن کو طے کرنے کی ذمہ داری اقوام متحدہ پر عائد ہوتی تھی مگر یہ مؤقر ادارہ ان مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کر سکا۔ ان حالات میں تنازعات کا حل اگر اقوام متحدہ کے علاوہ کسی اور بندوبست سے ممکن ہو تو اسے ایک خوش آئند موقع تصور کرنا چاہیے نہ کہ اقوام متحدہ کو کمزور کرنے کی کوشش۔ تاہم یہ ٹرمپ امن منصوبے کیلئے بھی ایک امتحان ہے کہ وہ قیام امن کیلئے مؤثر اقدامات یقینی بنا پاتا ہے یا محض سراب ثابت ہوتا ہے۔
مذکورہ امن منصوبے کی شرائط کو دیکھا جائے تو اسے مثالی قرار دینا مشکل ہے‘ مگر جنگ بندی کی امید سے اسے قبول کیا گیا اور حماس کو بھی یہ کڑوی گولی نگلنا پڑی۔ اگر فلسطین کے عوام کے حقوق کا دفاع نہ ہو سکا تو امن کے غلاف میں یہ اقدام فلسطین سمیت متعدد اقوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا سبب بنے گا اور عالمی امن اور ثالثی کی کوششوں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔