اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تعلیم کا عالمی دن

آج دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا جا رہا ہے‘ جس کا مقصد ہر بچے کیلئے معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ دن اس لیے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں دو کروڑ 60 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور یونیسیف کے مطابق سکول نہ جانے والے بچوں کی عالمی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ صورتحال حکومت کیلئے چشم کشا ہونی چاہیے۔ معاشی تنگدستی کی وجہ سے ہمارے مستقبل کے معمارتعلیم سے محروم رہ کر چائلڈ لیبر پر مجبور ہیں۔ ناقص تعلیمی حکمت عملی بھی اس بحران میں مرکزی کردار کی حامل ہے۔ آبادی کے تناسب سے سرکاری سکولوں کی کم تعداد‘ سکولوں میں جدید دور کے تقاضوں سے غیرآہنگ تعلیم اور اساتذہ کی کمی جیسے مسائل بچوں کی تعلیم کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف بچوں کے ذاتی مستقبل کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ قومی مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ جب نسلِ نو تعلیم سے محروم ہو گی تو ایسا سماج جنم لے گا جس میں چائلڈ لیبر‘ کم تربیت یافتہ افرادی قوت اور سماجی ناہمواری مزید بڑھ جائے گی۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی پالیسی پر فوری نظر ثانی کرے‘ تعلیم کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرے اور بنیادی تعلیم لازم کے اصول پر بہر صورت عملدرآمد کرے۔ صرف اسی صورت میں وہ بچے‘ جو غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں‘ زیورِ تعلیم سے آراستہ ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں