اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

برفباری اور حفاظتی اقدامات

گزشتہ روز چترال میں برفانی تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے نو افراد جاں بحق ہو گئے۔ پنجاب‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بالائی علاقوں میں ان دنوں شدید برف باری نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ متعدد مقامات پر سڑکیں بند ہونے سے سیاحوں کیلئے بھی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ مری میں ساڑھے تین فٹ تک برف پڑنے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے شہر کے داخلی راستے بند کر دیے گئے‘ مگر سیاحتی مقامات کا داخلہ بند کرنے کی یہ حکمت عملی ہمیشہ منفی نتائج دیتی ہے کیونکہ اس سے نہ علاقے سے نکلنے والے نکل سکتے ہیں نہ آنے والے داخل ہو سکتے ہیں‘ یوں میلوں تک ہزاروں گاڑیاں پھنس جاتی ہیں۔ ضروری ہے کہ سڑکوں کی بندش کے بجائے انہیں رواں رکھنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

برف باری کے موسم میں سیاحوں کا مری اور دیگر سرمائی سیاحتی مقامات کی جانب سفر خلافِ معمول نہیں‘ مگر اس قسم کی صورتحال میں انتظامی اداروں کو خصوصی انتظامات کرنے چاہئیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت کو سڑکوں پر پھنسے سیاحوں کے محفوظ مقامات پر پہنچنے تک انکا مکمل خیال رکھنا چاہیے۔ ایسے شدید موسمی حالات میں سیاحتی مقامات پر لوٹ مار کی حد تک منافع خوری بھی شروع ہو جاتی ہے‘ جس کا تدارک انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ محکمہ موسمیات نے 27جنوری تک مزید برف باری کی پیشگوئی کی ہے‘ ان موسمی حالات میں کسی بڑے سانحے سے بچنے کیلئے احتیاط اور بروقت حکومتی انتظامات کے ساتھ عوامی تعاون بھی بہت ضروری ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں