مسابقتی بحران کا مسئلہ
کاروبار ی شعبے کی ایک نمائندہ تنظیم کے مطابق پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں 34فیصد زیادہ ہے جس کی وجہ سے مقامی صنعتوں کو مسابقتی بحران کا سامنا ہے اور بین الاقوامی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہے۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش‘ بھارت اور ویتنام کا حوالہ دیا جاتا ہے جہاں معاشی ماہرین اور صنعتکاروں کی رائے میں کاروبار اور صنعتوں کیلئے بہتر مواقع میسر ہیں؛ چنانچہ ان ممالک میں تیار ہونے والی اشیا کی لاگت بھی پاکستان کی نسبت کم ہے۔ یوں پاکستانی اشیا کو عالمی منڈیوں میں مقابلے کی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ صنعتی حلقے برآمدات میں جمود کو بھی اسی صورتحال سے جوڑتے ہیں جو بادی النظر میں درست ہی معلوم ہوتا ہے۔ ہماری حکومتیں ہر دور میں برآمدات میں اضافے کے زوردار نعرے لگاتی آئی ہیں مگر پچھلے دس برس کے اعداد وشمار کو دیکھیں تو برآمدات میں کل اضافہ نو ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔ مالی سال 2015ء میں برآمدات 23 ارب 66 کروڑ ڈالر تھیں جو مالی سال 2025ء میں 32 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ رہیں۔ مگر رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ برآمدی لحاظ سے مایوس کن رہے اورخدشہ یہ ہے کہ برآمدات کی رفتار یہی رہی تو اس سال شاید گزشتہ سال کی سطح تک پہنچنا بھی مشکل ہو۔

مگر حکمران اگلے دس برس میں برآمدات کو 60 ارب ڈالر سے اوپر لے جانے کے دعوے کر رہے ہیں۔ بظاہر یہ ناممکن نہیں کہ پاکستان کی معیشت میں اصولی طور پر اتنا دم ہے کہ 60ارب ڈالر تک برآمدات ممکن ہو سکیں‘ مگر اس کیلئے معاشی اور صنعتی پالیسی کی ماہیت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ برآمدات میں ایک دہائی کے دوران 100 فیصد اضافہ ممکن ہے بشرطیکہ برآمدی صنعتیں اور کاروبار کیلئے حوصلہ افزا ماحول فراہم کیا جائے۔ ابھی تک ایسا دکھائی نہیں دے رہا بلکہ زمینی حقائق حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکن دکھائی دیتے ہیں اور اسکے اثرات صنعتی جمود اور برآمدات میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستانی برآمد کنندگان کو علاقائی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کیلئے ٹیکس نظام پر نظر ثانی‘ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور روپے کو مستحکم رکھنے کیلئے واضح پالیسی کی ضرورت ہے‘ تاکہ صنعتی پیداوار کی زیادہ لاگت اور مسابقت کے مسائل کم ہو سکیں۔
اس وقت جبکہ عالمی منڈیوں میں حالات پاکستان کے حق میں ہیں‘ امید تو یہ تھی کہ برآمدات میں حالیہ چند برسوں کے ریکارڈ ٹوٹیں گے مگر عملی صورتحال پریشان کن ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران برآمدات میں 9فیصد کمی آ چکی ہے۔ یہ صورتحال پیداواری لاگت میں اضافے اور مسابقتی صلاحیت کی کمی کا واضح ثبوت ہے۔ حکومتی عزائم کے برعکس گرتی ہوئی برآمدات معیشت کیلئے بڑے خطرے کی علامت ہیں۔ ان حالات میں جب مشرق و مغرب میں پاکستان کے تعلقات جوبن پر ہیں‘ برآمدات میں گراوٹ کی کوئی خارجی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ جو بھی مسائل ہیں گھر کے ہیں؛ چنانچہ انہیں گھر ہی میں حل کرنا ہوگا تاکہ صنعتیں بند ہونے کا تشویشناک رجحان رک سکے۔ صنعتوں کی بندش کہیں بھی خوش آئند نہیں ہو سکتی مگر پاکستان ایسے ترقی پذیر ممالک کیلئے صنعتیں ترقی کا انجن ہیں۔ اگر یہ انجن ہی بند ہو جائے تو معیشت کی ترقی پذیری کا بھرم ٹوٹ جاتا ہے۔
حالیہ کچھ عرصے کے دوران صنعتوں خاص طور پر ٹیکسٹائل صنعتوں کی بندش معیشت کیلئے برا شگون ہے۔ یہ صورتحال برآمدات میں کمی اور بیروزگاری اور افراط زر میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ بیروزگاری پہلے ہی سات فیصد سے زیادہ ہے جو 2003ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ صنعتی شعبے کی بحالی کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ اندیشہ خارج از امکان نہیں کہ صنعتی جمود بیروزگار ی کی شرح میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان حالات میں جبکہ معیشت کے دیگر شعبے بھی گھٹن کا شکار ہیں صنعتی شعبے کے مسائل معیشت اور سماج کیلئے خوفناک ہو سکتے ہیں۔