اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کم، ثمرات ندارد

ادارہ شماریات کی جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں معمولی کمی کے باوجود آٹا‘ چینی اور دالوں جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔ گزشتہ ہفتے کے مقابلے مہنگائی کی شرح میں 0.48 فیصد کمی کے باوجود بنیادی اشیا کی قیمتوں کا بڑھنا اور عوام کا ریلیف سے محروم رہنا انتظامی صلاحیتوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ یہ رپورٹ اس بات کی غماز ہے کہ اشیا کی قیمتوں میں اضافہ خارجی نہیں بلکہ داخلی عوامل کا شاخسانہ ہے۔ اگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے اسباب کا عبوری جائزہ لیا جائے تو سپلائی چین میں رکاوٹ‘ موسمی اثرات‘ نقل وحمل کے مسائل اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل سرفہرست نظر آتے ہیں۔

اب جبکہ رمضان المبارک ایک ماہ سے بھی کم دوری پر ہے‘ آٹے‘ چینی‘ کوکنگ آئل اور پھلوں سبزیوں کی ذخیرہ اندوزی کی شکایات بھی تواتر سے سننے کو مل کو رہی ہیں۔ دوسری جانب عام بازاروں میں سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔ حکومت کو ضلعی سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال بنانا چاہیے اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد بہرصورت یقینی بنانا چاہیے۔ جب تک انتظامی کنٹرول اور سپلائی چین کو بہتر نہیں بنایا جائے گا‘ صرف اعداد و شمار میں مہنگائی کم ہونے کا فائدہ عام آدمی تک نہیں پہنچ پائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں