اٹھارہویں ترمیم پر اٹھتے سوالات
آئین پاکستان کی 18ویں ترمیم صوبائی خود مختاری کے حوالے سے کلیدی اہمیت کی حامل ہے جس کا منشا یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں میں اختیارات کو متوازن اور صوبوں کو پالیسی سازی اور وسائل میں زیادہ بااختیار بنایا جائے اور صوبائی سطح پر اختیارات کو بلدیاتی اداروں کے ذریعے نچلی سطح تک تقسیم کیا جائے۔ مگر 18ویں ترمیم آئین کا حصہ بننے کے ڈیڑھ دہائی بعد بھی اس کی تقاضے نامکمل ہیں۔ اس آئینی ترمیم کی رو سے صوبوں کو منتقل ہونے والے اختیارات صوبائی حکومتوں نے ضلعی اور مقامی حکومتوں کو منتقل کرنا تھے‘ لیکن اختیارات اور وسائل کی تقسیم کا عمل بدستور ادھورا ہے۔ بلدیاتی انتخابات آئینی تقاضا ہیں مگر آئین میں ان انتخابات کے انعقاد کا طریقہ کار واضح نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات کی راہ میں روڑے اٹکانے سے کبھی باز نہیں آئیں؛ چنانچہ ملک میں مقامی حکومتوں کا وہ نظام نہیں بن سکا جس کیلئے اختیارات کی تقسیم اور صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

انتخابات ہوئے بھی تو منتخب نمائندے اختیارات اور وسائل کیلئے صوبائی حکومتوں کے دستِ نگر رہے۔ صوبائی حکومتیں نیشنل فنانس کمیشن کے تحت وفاق سے مالی وسائل کا پورا حصہ وصول کرتی ہیں مگر صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعے جو وسائل منتقل کئے جانے ہیں اس جانب کوئی پیشرفت نہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم اور آئین کے آرٹیکل 140 اے کا مقصد مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا تھا لیکن حقیقی مالیاتی خودمختاری کے بغیر خودمختاری مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔ بلدیاتی اداروں کو بعض انتظامی اختیارات دیے بھی گئے تو کمزور مالی حیثیت اور محدود اختیارات ان اداروں کیلئے اپنے مینڈیٹ پر پوری طرح عمل کروانے میں رکاوٹ بن گئے۔ 18ویں ترمیم کی روح کے مطابق عمل درآمد کیلئے مضبوط بلدیاتی نظام اور ضلعی سطح پر فنانس کمیشن ناگزیر ہے۔ اس سے یقینی بنایا جا سکے گا کہ مالی وسائل براہ راست اضلاع کیلئے مختص کیے جائیں۔
صوبائی سطح پر گورننس کا خلا‘ جس کے مظاہر آئے روز سنگین واقعات اور حادثات میں کی صورت میں دیکھنے کو ملتے ہیں‘ غیر معمولی حل کا تقاضا کرتا ہے۔ کراچی میں گل پلازہ کے سانحہ کے بعد یہ تقاضا مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے شہری ڈھانچے کسی توازن میں نہیں اور یہی حال صوبوں کا ہے۔ کہیں کی آبادی بہت بڑی ہے اور کہیں کا رقبہ۔ ایسے میں وسائل کی بہتات بھی صوبائی اور شہری سطح پر ان امراض کا تدارک نہیں کر سکتی جو ہمارے نظام اور ڈھانچے میں گہرائی تک اتر چکے ہیں۔ مسائل کا حل اختیارات اور وسائل کی جس تقسیم میں ہے وہ صوبوں کی انتظامی تقسیم کے بغیر ممکن نظر نہیں آتی۔ کراچی کی مثال واضح کئے دیتی ہے کہ ملک کے اقتصادی صدر مقام میں بلدیاتی نظام کی موجودگی بھی شہری مسائل کے حل میں کامیاب نظر نہیں آتی۔ حالیہ کچھ عرصے میں کراچی دوسری بار خوفناک حادثے کی وجہ سے ملکی سطح پر موضوع بحث بنا۔
پہلا واقعہ ایک کمسن کے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کا تھا اور اب گل پلازے کا واقعہ قومی سطح کا المیہ ثابت ہوا ہے۔ ان واقعات نے ثابت کیا ہے کہ بلدیاتی نظام سے بڑھ کر ہمیں انتظامی تقسیم کی ضرورت ہے۔ کراچی جو یورپ کے متعدد ملکوں سے زیادہ گنجان آباد اور آبادی میں بڑا ہے‘ اگر اس کا انتظام انتظامی تقسیم کے ذریعے کئی حکومتوں کی ذمہ داری ہوتا تو یقینا اس شہر کے مسائل کہیں کم ہوتے۔ یہی حال ملک بھر کا ہے کہ آبادی اور رقبے کا پھیلاؤ انتظامی تقسیم کے بغیر ناقابلِ بندوبست ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات کی منتقلی‘ وسائل کی تقسیم اور صوبوں کی ذمہ داریوں کی بجا آوری کے فوائد اپنی جگہ مگر ہمارا قومی مسئلہ اس سے آگے بڑھ کر اقدامات کا متقاضی ہے۔ ہمارے قومی مسائل کا حل انتظامی تقسیم میں ہے۔