کمرشل عمارتوں کا سیفٹی آڈٹ
گزشتہ روز کراچی اور لاہور میں یکے بعد دیگرے آتشزدگی کے ہولناک واقعات نے ایک بار پھر ریاست‘ انتظامیہ اور بلڈنگ کنٹرول سے متعلقہ اداروں کی توجہ کثیر المنزلہ اور کمرشل عمارتوں میں حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی کی جانب مبذول کرائی ہے۔ کراچی میں ناظم آباد کی فیکٹری میں لگنے والی آگ ہو یا لاہور کے ایک ہوٹل میں آتشزدگی سے تین افراد کی موت‘ یہ واقعات اس بات کا اظہار ہیں کہ ہمارے شہروں میں بلند وبالا عمارتیں‘ صنعتی یونٹس اور کمرشل پلازے موت کے کنویں بن چکے ہیں جہاں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سانحہ گُل پلازہ کے بعد کراچی اور اسلام آباد میں کیے گئے سرویز میں انتہائی تشویشناک حقائق سامنے آئے ہیں۔

ان رپورٹس کے مطابق تقریباً 90 فیصد کثیر المنزلہ عمارتوں اور صنعتی مراکز میں آگ بجھانے کا انتظام سرے سے موجود نہیں یا ناکارہ ہو چکا‘ بیشتر عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ کے راستے یا تو بند ہیں یا تجاوزات کی نذر ہو چکے۔ زیادہ تر بلڈنگوں میں آگ لگنے کی صورت میں خبردار کرنے والے الارم یا آگ بجھانے والے آلات تک موجود نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پے درپے ہونے والے واقعات کو قدرت کی آخری تنبیہ سمجھا جائے اور فوری طور پر تمام صنعتی اور کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم کا نفاذ لازمی قرار دیا جائے۔ کمرشل عمارتوں کا سیفٹی آڈٹ کیا جانا چاہیے جبکہ قوانین کی عدم پیروی کی صورت میں سخت سزائیں دی جانی چاہئیں۔