امریکہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ ایران اس کے لیے وینزویلا کی طرح تر نوالا نہیں ہے مگر دنیا جانتی ہے کہ امریکی اور صہیونی خفیہ ایجنٹوں نے تہران میں مظاہرے کروا کر وہاں بدامنی پھیلائی اور اس عوامی احتجاج کی آڑ لے کر حملہ کرنے کا جواز تلاش کیا جا رہا ہے۔ ایران امریکہ کے اعصاب پر سوار ہے کیونکہ واشنگٹن کو معلوم ہے کہ ایران کی عسکری طاقت کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ امریکی فوج نے صدر ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کا خاکہ تیار کر کے دے دیا ہے اور ایران نے بھی کسی دبائو میں آئے بغیر امریکہ کو دندان شکن جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پر اسرائیل یا امریکہ نے کوئی بھی جارحانہ کارروائی کی تو ایران اسرائیل اور مشرقی ایشیا میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ امریکہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ یہ ایران کی گیڈر بھبکی نہیں ہے۔ 2025ء کی ایران اسرائیل جنگ میں ایران تل ابیب اور دیگر شہروں کو نشانہ بنا کر اپنے دفاعی ارادوں اور صلاحیتوں کا سخت پیغام دے چکا ہے۔ ہائپر سونک‘ بیلسٹک اور کروز میزائلوں سے لیس ایرانی فوج اسرائیل کیلئے خطرے کی علامت ہے۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اور وہاں اقتدار کی تبدیلی ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی بیدخلی کے مذموم منصوبے بنائے گئے اور جلا وطن رضا پہلوی کی جانب سے بھی بارہا ایرانی عوام کو اشتعال دلانے کی کوششیں کی جاتی رہیں‘ لگاتار عوام کو اکسا یا گیا کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج میں شدت پیدا کریں‘ شہر کے مرکزی مقامات پر قبضہ کر لیں‘ امریکی صدر ٹرمپ پر زور دیا گیا کہ وہ ایران میں مداخلت کریں۔ یہ مداخلت فوجی ہی ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کر تے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک ماہ کے لیے اعلیٰ سطح کی اور چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ حالت کا اعلان کیا اور طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو سکارٹ بحری جہازوں کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ روانہ کیا گیا جبکہ خطے میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے گیارہ سے زائد ایف 15 لڑاکا طیارے بھی تعینات کیے گئے۔ امریکہ پہلے ہی خلیج فارس‘ بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر میں اپنے طیارہ بردار بحری جہاز‘ جنگی کشتیاں اور جدید آبدوزیں تعینات کر چکا ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق یہ محض دفاعی اقدامات نہیں بلکہ واضح طور پر طاقت کے اظہار کی کوشش ہے جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اسے خطے میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کرنا ہے۔ ایک جانب امریکی بیڑے کی مو جودگی اور دوسری جانب ایران سے بات چیت کی آمادگی اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی خواہش امریکی منافقت کو عیاں کرتی ہے۔ واضح رہے کہ چین سمیت جو ملک Real time war میں اپنا اسلحہ چیک کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور ایران کی مدد کو آئیں گے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کیلئے یہ فیصلہ آسان نہیں۔
ایران کی مخالفت امریکہ اور اسرائیل کا وتیرہ رہا ہے۔ کسی نہ کسی بہانے سے ایران کو کمزور کرنے کیلئے منصوبے بنائے گئے اور اس کے لیے رضا پہلوی اور اسی طرح کے عناصر کی مدد لی جا رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک سازش ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے سارے ممالک زد میں آ سکتے ہیں اور ایران کے بہانے سارے علاقے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا دنیا بھر کے ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کو ان کے جارحانہ اور ظالمانہ منصوبوں سے باز رکھیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے جس طرح سے غزہ میں تباہی مچائی اور اپنے منصوبوں کو پورا کیا اسی طرح وینزویلا میں امریکہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں ہے اور وہاں تیل کی دولت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کئی ممالک میں اقتدار کو تبدیل کرتے ہوئے اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کو ذمہ داری سونپ چکا ہے تو ایسے میں ایران کے حوالے سے بھی اس کے عزائم اسی طرح کے ہیں۔ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ ایرانی عوام مشکلات کا شکار ہے‘ مہنگائی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے تو اس کے لیے بھی بجا طور پر امریکہ ہی ذمہ دار ہے۔ ان پر اقتصادی پابندیوں کو 45 برس سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ ایران کی تجارت کو روکا جا رہا ہے‘ تیل کی فروخت میں رکاوٹ پیدا کرنے کے اقدامات کیے گئے‘ معیشت کو تہس نہس کر دیا گیا اور عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانے کی درپردہ سازشیں رچائی گئیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایران میں حکومت کے خلاف بغاوت ہو جائے‘ بنیادی طور پر وہاں ایک مخلص حکومت قائم ہے جو عوامی ناراضی کو دور کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
دوسری جانب یہ بات بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ بیرونی دباؤ اور خفیہ ایجی ٹیشن کے ذریعے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ایرانی معاشرے کو پارہ پارہ کرنے میں ناکام رہی ہیں‘ اس کے بجائے وہ ریاست کے اردگرد عوامی حمایت کو مستحکم کرتے دکھائی دیے۔ ایسا لگتا ہے کہ ایرانیوں کے عزم سے خطے میں پھیلنے والے ہنگاموں کے مزید امکانات کم ہونے سے واشنگٹن اور تل ابیب غم میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ کیونکہ ایران خطے میں اسرائیلی اور مغربی عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کو کمزور کرنے کے لیے نئی کوششیں اور مختلف ذرائع پہ عمل کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ اپنے گزشتہ صدارتی دور کے آخری دنوں میں بھی تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کو مزید بڑھا کر سویلین جوہری پلانٹس اور دیگر اہداف پر حملہ کرنے کے درپے تھے۔ امریکی صدر کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے جارحانہ پالیسیوں میں یہ شامل ہے کہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کو تباہی سے دوچار کر دے‘ اس مقصد کیلئے بعض ممالک امریکہ سے اربوں ڈالرز کا اسلحہ خرید رہے ہیں جبکہ اسرائیل ہر سال امریکہ سے اربوں ڈالر کی فوجی امداد حاصل کر رہا ہے‘ تاہم اس صورتحال کے جواب میں اگر زمینی حقائق ملاحظہ کئے جائیں تو تہران کی جیو سٹرٹیجک پوزیشن‘ اس کی عسکری قوت اور خطے میں موجود اس کی حمایت یافتہ طاقتور ملیشیائوں کی موجودگی میں عسکری شکست آسانی سے ممکن نظر نہیں آتی۔
ایران امریکہ تعلقات جہاں جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد تنزلی کا شکار تھے وہیں پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے قائد اور آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ساتھی قاسم سلیمانی‘ جن کا طاقتور ترین حلقوں میں شمار ہوتا تھا‘ کی امریکہ کے ہاتھوں موت کے بعد اس بحران نے انتہائی اہم اور فیصلہ کن موڑ اختیار کر لیا۔ ٹرمپ کا یہ اعتراف کہ ایرانی جنرل کو مارنے کا فیصلہ ممکنہ جنگ کو روکنے کیلئے کیا گیا کسی بڑے خطرے سے خالی نہیں تھا کیونکہ ایران نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کڑا بدلہ لینے کاجو عزم کیا اس کے نتائج آج بھی گاہے گاہے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ مسلم دنیا کو اپنے دفاع اور توانائی کے حصول کے پُرامن مقاصد کے تحت بھی ایٹمی ٹیکنالوجی میں آگے نکلتا برداشت نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر جمی کارٹر نے جنوری 1980 ء میں سٹیٹ آف دی یونین میں خطاب کے دوران واضح طور پر امریکی مفادات پر ضرب پڑنے پر فوجی طاقت سمیت ہر قسم کی کارروائی استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ یہ بیان ''کارٹر ڈاکٹرائن‘‘ کے نام سے معروف ہوا لیکن افغانستان اور عراق پر قبضے کے بعد مشرق وسطیٰ میں وائٹ ہائوس کی ترجیحات نیو ورلڈ آرڈر کی وجہ سے بدلتی چلی گئیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسرائیل خطے سے اپنے دشمن مٹانا چاہتا ہے اور اس میں پاکستان بھی سرفہرست ہے۔ معرکہ حق میں عظیم کامیابی کے بعد پاکستانی عسکری قیادت وحکومت علاقے کے امن وسلامتی کیلئے مسلسل کوشاں ہیں اور پاکستان ایران کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا ہے۔