"MAHG" (space) message & send to 7575

صومالیہ کی تقسیم‘ عالم اسلام کے خلاف سازش

اسرائیل نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست تسلیم کر کے مسلم اُمہ کے سینے میں ایک اور خنجر گھونپ دیا ہے۔ گزشتہ برس 26دسمبر کو صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو اور صومالی لینڈ کے خود ساختہ صدر عبد الرحمن محمد عبداللہی نے یروشلم اعلان کے ذریعے ایک معاہدہ کیا۔ اسرائیل نے اسے ابراہیمی معاہدوں کی ایک کڑی قرار دیا۔ کہا جاتا ہے کہ صدر عبد الرحمن کے اسرائیل کے ساتھ گزشتہ ایک سال سے خفیہ مذاکرات جاری تھے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق صدر عبدالرحمن محمد عبداللہی نے اکتوبر 2025ء میں اسرائیل کا خفیہ دورہ بھی کیا تھا جس دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات بھی کی۔ نیتن یاہو نے اس معاہدے پر موساد کے چیف David Barnea کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
ستمبر 2020ء میں جب متحدہ عرب امارت نے ابراہم اکارڈ پر دستخط کیے تو صومالی لینڈ کی علیحدگی پسند قیادت نے اس کا پُرجوش خیر مقدم کیا تھا۔ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو ایک خودمختار ریاست تسلیم کرنے کا اقدام صومالیہ کی الشباب اور داعش جیسی تنظیموں کے خلاف جدوجہد کیلئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو گا۔ اس تناظر میں پاکستان سمیت 23اسلامی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم نے اسرائیلی وزیرِ خارجہ Gideon Sa'ar کے چھ جنوری کو صومالی لینڈ کے غیرقانونی دورے کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا۔ گزشتہ برس نومبر میں افریقہ میں امریکی کمانڈ (AFRICOM) کے کمانڈر جنرل ڈاگون اینڈرسن کے صومالی لینڈ کے دورے سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ایک سینئر امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے صومالی لینڈ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے حوالے سے صومالی لینڈ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991ء میں خانہ جنگی کے دوران صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ اپنی حکومت‘ کرنسی اور فوج رکھتا ہے تاہم اب تک اسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ صومالی لینڈ کے خود ساختہ صدر عبدالرحمن نے نومبر 2024ء میں انتخابات کے ذریعے حکومت سنبھالی تھی۔
صومالی لینڈ صومالیہ کے شمال مغرب میں واقع ہے اور بحیرۂ احمر کے اہم مقام خلیج عدن کے کنارے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی سرحدیں ایتھوپیا اور جبوتی کے ساتھ ملتی ہیں جس سے اس کی سٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک اسرائیلی تھنک ٹینک کے مطابق صومالی لینڈ کا علاقہ حوثیوں کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائیوں کیلئے فرنٹ لائن کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا بحیرۂ احمر کی جغرافیائی سیاست کو نئی شکل دے گا؟ تو اس اسرائیلی اقدام کا ایک مقصد قرنِ افریقہ (Horn of Africa) اور بحیرۂ احمر میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا اور یہاں قدم جمانا ہے۔ اسرائیل اس کا ایک اور جواز بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں سے اپنے اور واشنگٹن کے مفادات کا تحفظ بتاتا ہے۔ صومالی لینڈ اور اسرائیل کے مابین معاہدے کا ایک اور مقصد قرن افریقہ میں اہم بحری گزرگاہوں‘ خاص طور پر بحیرۂ احمر کے راستے جنوبی قوس تک رسائی کو محفوظ بنانے کیلئے شراکت داری کا قیام ہے۔ صومالی لینڈ کا جغرافیائی محل وقوع بھی اہم ہے کیونکہ یہ باب المندب کی گزرگاہ کے قریب واقع ہے‘ جو دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک ہے اور بحر ہند کو سویز کینال سے جوڑتا ہے۔ اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا محض سفارتی تعلقات کا معاملہ نہیں ہے‘ اس کا صاف مطلب ہارن آف افریقہ میں قدم جمانا‘ صومالی لینڈ کی زمین اور پانی کو حوثیوں کے خلاف استعمال کرنا‘ یمن اور بحیرۂ احمر کی قربت‘ ایران اور حوثیوں کے خلاف سٹریٹجک فائدہ اٹھانا ہے۔ علاوہ ازیں صومالی لینڈ میں فلسطینیوں کی جبری منتقلی اور یہاں ایک بڑے صہیونی فوجی اڈے کا قیام ہے۔ اس کیلئے صومالی لینڈ کے دو اہم سٹریٹجک اہمیت کے حامل مقامات زیر غور ہیں جن میں پہلا بندرگاہی شہر Berbera ہے۔ اس کی افادیت ایتھوپیا سے منسلک راستہ بھی ہے۔ دوسرا آپشن تاریخی ساحلی شہر Zeila ہے جو جبوتی سرحد کے قریب ہے اور صومالی لینڈ میں آبنائے باب المندب کے قریب ترین مقام ہے‘ جو سلطنتِ عدل کا دارالحکومت اور بحیرۂ احمر کا تجارتی مرکز رہا ہے۔ اس مقام پر اسرائیلی موجودگی کا مقصد یمن اور اریٹیریا کی نگرانی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تل ابیب کا یہ اقدام آبنائے باب المندب کے دونوں جانب سٹریٹجک قدم جمانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ترکیہ اور صومالیہ بحیرۂ احمر تک براہِ راست رسائی والی بندرگاہ لاس قوری میں ایک اور فوجی اڈہ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اسرائیلی اعلان کے بعد مصر‘ صومالیہ‘ جبوتی اور ترکیہ نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ صومالی لینڈ کی آزادی کو تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کرنے اور اس کی مذمت کی تصدیق کی جا سکے اور صومالیہ کے ریاستی اداروں کی حمایت کی جا سکے۔
اسرائیل Barbera راہداری کے ذریعے افریقہ کی تجارتی منڈیوں پر تسلط چاہتا ہے جس سے صہیونی ٹیکنالوجی فرموں کو ایتھوپیا کی بڑی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ یہ اقدام کینیا اور یوگنڈا کے راستے سب صحارا افریقہ میں اسرائیل کیلئے لینڈ ٹرانزٹ کے راستے بھی کھول دے گا۔ موغادیشو کی صومالی حکومت نے اس کو صومالیہ کی سالمیت پر براہِ راست حملہ اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے‘ جو صومالیہ کے اتحاد کیلئے سنگین خطرہ ہے‘ اور اس سے شورش زدہ خطے افریقہ میں دیگر علیحدگی پسند کی تحریکیں بھی زور پکڑیں گی۔ جیسا کہ پنٹ لینڈ اور جوبا لینڈ میں چلنے والی تحریکیں۔ اسرائیلی عزائم سے نہر سویز کی سلامتی بھی شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اگر ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدگی مزید بڑھی تو علاقائی امن مزید خطرے میں پڑ جائے گا‘ جو پہلے ہی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے۔ افریقی یونین نے 1964ء کی قاہرہ قرارداد کے ذریعے اس اسرائیلی اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ یونین نے متنبہ کیا کہ اس سے پورے براعظم بالخصوص نائیجیریا‘ کیمرون اور ایتھوپیا جیسے ملکوں میں‘ جہاں پہلے سے کئی علاقے مسلح تصادم کی زد میں ہیں‘ علیحدگی پسندوں کو مزید تقویت ملے گی۔
سعودی عرب نے بھی صومالیہ کی علاقائی سالمیت کیلئے اس اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے برعکس ٹرمپ نے یہ طنزیہ جملہ کہا کہ کیا کوئی جانتا بھی ہے کہ صومالی لینڈ کیا ہے اور صومالی لینڈ کی جانب سے امریکی فوجی اڈے کے قیام کی پیشکش کو ایک بگ ڈیل قرار دیا۔ مزید یہ کہ نہر سویز پر کنٹرول سے مصرکو بلیک میل کرنے کی اضافی سہولت بھی حاصل ہو جائے گی اور آبنائے ہرمز سے سعودیہ‘ عمان‘ عرب امارات سمیت یمن کی برآمدات کو جب چاہے گا روکنے پر قادر ہو جائے گا۔ اسی بنا پر عالمی امور پر دسترس رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ صومالی لینڈ دراصل خطے میں اسرائیل کی ایسی نئی کالونی ثابت ہو گی جہاں سے عرب ممالک کو گھیرنے کا منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔ یہ عرب ممالک کی جغرافیائی حد بندی کو تبدیل کرنے کی ایک ایسی بڑی سازش ہے جس سے عربوں کی معیشت و دفاع دونوں متاثر ہوں گے۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی آڑ میں اسرائیل کیلئے شام اور لیبیا کی طرح دیگر عرب ممالک میں خانہ جنگی کو فروغ دینا آسان ہو جائے گا۔ صومالی لینڈ کو تسلیم کرکے اسرائیل نے قرن افریقہ‘ خلیجِ عدن‘ بحیرۂ احمر سمیت مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور عالمی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہ اقدام امت مسلمہ کیلئے ایک لٹمس ٹیسٹ ہے کہ وہ اب بھی صہیونی ریاست کے خلاف متحد ہوتی ہے یا نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں