2025ء بھی گزرے برسوں کی طرح ماضی کے دھندلکوں میں کھو گیا ہے مگر یہ سال پاکستان کیلئے تزویراتی و سٹریٹجک لحاظ سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اگرچہ پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذوں پر متعدد چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا‘ لیکن الحمدللہ! پاکستان نے نہ صرف جرأت و بہادری اور اولوالعزمی سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا بلکہ اقوام عالم میں خود کو منوایا۔
2025ء تو گزر گیا لیکن اس گزرے برس کی خاصیت یہ رہی کہ اس نے مایوس نہیں کیا۔ کوئی ناامیدی کوئی تشنگی نہیں۔ بلاشبہ میرا ملک عالمی منظرنامے پر ایک بڑی قوت کے طور پر ابھرا۔ سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور معاشی استحکام کی کوششیں ثمر آور ثابت ہوئیں‘ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان آہستگی و مستقل مزاجی سے اپنی اُس حقیقی منزل کی جانب رواں دواں ہے جس کیلئے گزشتہ 78 برسوں سے سر گرداں ہے۔ اسی سال چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا وائٹ ہاؤس میں پُرتپاک استقبال ہوا اور پاک امریکہ تعلقات میں گرمجوشی پیدا ہوئی۔ واشنگٹن نے پاکستان کو خطے کا مرکزی ستون قرار دیا جو اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان نے سفارتی میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ ھے۔ سالِ رفتہ میں پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سربراہی ملی۔ خارجہ پالیسی کو معا شی اہداف سے جوڑتے ہوئے چین کیساتھ آہنی دوستی مزید گہری اور سی پیک کے دوسرے مرحلے پر پیشرفت ہوئی۔ امریکہ‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ ترکیہ‘ ایران‘ آذربائیجان‘ ملائیشیا‘ انڈونیشیا‘ لیبیا اور بنگلہ دیش سمیت کئی دیگر ممالک کیساتھ متعدد سٹریٹجک شعبوں میں شراکت داری بڑھی جس نے ملک کیلئے نئے مواقع پیدا کیے۔ سال کے آخر پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا پہلا ایک روزہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان اسی مضبوط باہمی احترام و دیرینہ مراسم کے سلسلے کا ایک حصہ ہے۔
2025ء میں پاکستان کی سفارتی کامیابیاں صرف اعلانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ امت مسلمہ میں پاکستان ایک توانا آواز بن کر سامنے آیا‘ جس کی نمایاں مثال غزہ جنگ بندی اور فلسطین تصفیہ کی کاوشوں میں پاکستان کی شرکت ہے۔ امریکہ کی جانب سے کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو عالمی دہشت گرد قرار دینا بھی پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا حصہ ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ برس پاکستان نے ایران اسرائیل جنگ میں مسلم بھائی چارے کا فرض بخوبی نبھایا جس پر ایرانی پارلیمنٹ میں تشکر پاکستان کی گونج سنائی دی۔ 2025ء کی سب سے بڑی بات‘ جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا وہ بنگلہ دیش کا ماضی کی تلخیاں بھلا کر آگے بڑھنا اور ڈھا کہ کی گلیوں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجنا ہے‘ جس سے بھارت کو یہ واضح پیغام ملا کہ دو قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے۔ سالِ رفتہ میں سفارتی اور معاشی کامیابیاں حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ یعنی مملکتِ خداداد نے دفاعی‘ عسکری‘ خارجی اور اندرونی محاذوں پر عظیم کامیابیاں سمیٹیں۔ معرکۂ حق میں افواجِ پاکستان سرخرو ہوئیں۔ دنیا پر افواج پاکستان کی قوت‘ نظم و ضبط اور پیشہ وارانہ مہارت کی دھاک بیٹھ گئی۔ فضا میں پاکستان کی برتری ثابت ہوئی اور پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کی فضائیں نہ صرف محفوظ بلکہ ناقابلِ تسخیر ہیں۔ دنیا کی بڑی فوج رکھنے والا بھارت‘ جس نے فوجی طاقت کے بلند و بانگ جھوٹے دعوؤں سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رکھی تھی‘ افواجِ پاکستان کے جانبازوں نے اس کی رعونت و تکبر کو خاک میں ملا دیا۔ مئی 2025ء پاکستان کی درخشاں عسکری تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ثابت ہوا ہے۔ ہماری بہادر مسلح افواج نے بھارت کے آپریشن سندور کی اشتعال انگیز مہم کا آپریشن بنیانٌ مرصوص کے ذریعے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ بھارت ہمیشہ یاد رکھے گا۔ دسمبر میں بھارتی جارحیت پر اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ عالمی سطح پر پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس کے ذریعے پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی پذیرائی اور تائید ملی۔
دوسری جانب پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزرے برس ملک میں دہشت گردحملوں میں سالانہ بنیادوں پر 34 فیصد اور دہشت گردی سے متعلق ہلاکتوں میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سال بھر میں ملک میں مجموعی طور پر 699دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 26خود کش تھے۔ اس برس دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 122 فیصداور ان کی گرفتاریوں میں 83 فیصد اضافہ ہوا۔ سالِ رفتہ کی پہلی تین سہ ماہیوں میں دہشت گردی کا المیہ شدت اختیار کیے ہوئے تھا مگر سال کے آخری مہینوں میں پاک فوج نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد‘ انٹیلی جنس کوآرڈی نیشن اور بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بناتے ہوئے موثر کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردوں کے کئی نیٹ ورکس توڑے ہوئے۔
سالِ رفتہ میں پاکستان نے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں خود کو ایک بڑے علاقائی کھلاڑی کے طورپر منوایا۔ دی ٹیلی گراف اور امریکی جریدے کیرو لائنا پولیٹکل ریویو کے تجزیے اس امر کے عکاس ہیں کہ پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی مضبوط دفاعی صلاحیت کی بنا پر توجہ کا مرکز بنا ہے۔ پاکستان نے عسکری اور سفارتی محاذ پر ایک متوازن‘ فعال اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جس کے اثرات دور رس ثابت ہو رہے ہیں۔ ان عالمی جریدوں میں پاکستان اور بھارت کی عسکری طاقت کا موازنہ بھی زیر بحث آیا‘ جس کے مطابق بھارت کی فوجی بالا دستی کے دعوے صرف ڈونگ تھا۔ پاکستان نے کم وسائل کے باوجود سمارٹ ڈیفنس‘ موثر ڈیٹرنس اور متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ امریکی میگزین دی ڈپلومیٹ نے اپنے مضمون میں پاکستان کو عالمی توجہ کا مرکز قرار دیا۔ ایک اور عالمی جریدے کے مطابق 2025ء میں واشنگٹن کا انڈیا فرسٹ دور ختم ہوا اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی۔ امریکی پالیسی شفٹ کی بنیاد پاک بھارت جنگ بنی‘ جس میں پاکستان کی ملٹری کارکردگی نے ٹرمپ کو حیران کر دیا۔ امریکی ایگزم بینک نے بلوچستان میں ریکوڈک میں کان کنی اور معدنیات کیلئے ایک ارب 25کروڑ ڈالر فنانسنگ منظور کی۔ پاکستان نے 2025ء میں ری انگیجمنٹ کر کے امریکہ کے ساتھ رشتے کو 'پائیدار مفاد‘ کی سمت بڑھایا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر کی قیادت کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے‘ ان کے دور میں دفاعی پالیسی میں تسلسل‘ پیشہ وارانہ مہارت و جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات دیکھنے میں آئیں۔ علاقائی امن‘ تجارتی تعلقات اور عالمی فورمز پر مؤثر نمائندگی نے ملک کے تشخص کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسری جانب بھارت کیلئے 2025ء بدنامی‘ رسوائی و ذلت کا سال رہا۔ ایک بھارتی اخبار 'دی ہندو‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بھارت کی کمزور سفارت کاری اور ناکامیوں کا اعتراف کیا۔ اخبار کے مطابق علامتی سفارت کاری‘ ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی حقیقی معاشی‘ عسکری اور سفارتی طاقت کا نعم البدل ثابت نہ ہو سکی۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حولے سے 2025ء بھارت کیلئے رواں صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا۔ اخبار نے اعتراف کیا کہ پہلگام حملے کے بعد بھارتی عسکری کارروائیوں کو سفارتی سطح پر عالمی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ جبکہ 2025ء میں بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر عر صۂ حیات مزید تنگ ہوا۔ کرسمس پر مسیحیوں پر حملوں نے نام نہاد سیکولر ریاست کو مزید بے نقاب کر دیا۔ 2025ء میں خون آشام راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے قیام کو 100برس مکمل ہوتے ہی 'اَکھنڈ بھارت‘ کی ناپاک مہم میں بھی شدت آگئی ہے۔ بی جے پی کی طاقت کا اصل سرچشمہ اور نکیل راشٹریہ سیوک سنگھ کے پاس ہے‘ یہ ہندتوادیوں کا اصل چہرہ ہے جسے دنیا کو پہچاننا ہو گا۔