گٹر ڈھکن غائب
محکمہ بلدیات پنجاب کے ایک سروے کے مطابق صوبے میں 47 ہزار سے زائد مین ہولز بغیر ڈھکن کے ہیں۔یہ شہریوں کی زندگی کو لاحق ایک سنگین خطرے کا اعتراف ہے۔ سروے کے مطابق لاہور ڈویژن میں 2497 مین ہولز ایسے ہیں جن پر ڈھکن موجود نہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے اگرچہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ بڑی تعداد میں مین ہولز کو کور کر دیا گیا ہے تاہم جلدبازی میں کہیں کمزور سلیب رکھ دی گئی ہیں اور کہیں محض وقتی بندوبست کر کے کارروائی پوری کی گئی ہے۔ہر بڑے سانحے کے بعد ہنگامی اقدامات تو کیے جاتے ہیں مگر مستقل اور محفوظ حل پر سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ بھاٹی گیٹ کے واقعے کے بعد انتظامیہ نے معیاری ڈھکن لگانے کے بجائے کئی جگہوں پر کمزور سلیبوں سے مین ہولز ڈھانپے۔

یہ رویہ واضح کرتا ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کے بجائے وقتی دباؤ سے نکلنا اصل مقصد بن چکا ہے۔ ہر سال درجنوں شہری مین ہولز میں گر کر زخمی یا جاں بحق ہوتے ہیں مگر ناقص منصوبہ بندی‘ غیر معیاری کام یا غفلت پر سزا متعلقہ افسروں اور ٹھیکیداروں کو نہیں ملتی۔ جب تک احتساب کا مؤثر نظام قائم نہیں ہو گا یہ مسئلہ موجود رہے گا۔ صوبے میں معیاری‘ مضبوط اور لاک ایبل مین ہول کورز کی تنصیب‘ ڈیجیٹل نقشہ بندی‘ مسلسل مانیٹرنگ اور ناقص کام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔