اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ماحولیاتی اقدامات کی ضرورت

پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کررہا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے مگر پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہیں۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کا یہ بیان کہ کلائمیٹ چینج محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ معیشت‘ زراعت اور عوامی صحت سے جڑا ایک سنگین بحران ہے‘مستقبل کے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے مگر ہمارے ہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے آگہی اور اس سے نمٹنے کی حکمتِ عملی نہ ہونے کے برابر ہے۔ عالمی موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ پاکستان کو اندرونی ماحولیاتی مسائل کا بھی سامنا ہے۔

فضائی آلودگی‘ آبی آلودگی‘ پلاسٹک کچرا اور صنعتی فضلے کا ناپائیدار انتظام وہ چند بڑے مسائل ہیں جنہوں نے کلائمیٹ چینج کے اثرات کو دوچند کر دیا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ایک جامع اور پائیدار حل کی ضرورت ہے۔ صنعتی اور شہری فضلے کی صفائی کیلئے مناسب انتظام اور کچرے کو ٹھکانے لگانے اور ری سائیکلنگ کا نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔ پلاسٹک کنٹرول اور شجرکاری مہمات کے علاوہ ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے میں عوام کے کردار کے حوالے سے شعور بیدار کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔ ماحولیاتی مسائل ہمارے لیے بقا کا مسئلہ بن چکے ہیں اور ان سے نبرد آزما ہونے کیلئے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں