رمضان سے پہلے مہنگائی
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جوں جوں قریب آتا جا رہا ہے‘ مارکیٹ میں گرانی کی شرح بھی توں توں بلند ہو رہی ہے۔ اگرچہ گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 4.8 فیصد کا بڑا اضافہ دیکھا گیا‘ تاہم اب ملک کے مختلف شہروں میں مخصوص سبزیوں‘ پھلوں‘ دالوں اور آٹے کی قیمت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کی بڑھتی قیمتوں کو پیداوار میں کمی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ آٹے کی بڑھتی قیمت سپلائی چین میں موجود رکاوٹ کا نتیجہ بتائی جا رہی ہے۔ یہ محض اس بار کا قصہ نہیں‘ رمضان المبارک سے قبل ہی مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا ہو جانا اب ہر سال کا معمول بن چکا ہے ۔ رمضان سے قبل ہی مصنوعی قلت پیدا کر کے پھل‘ سبزیاں‘ تیل اور بیسن وغیرہ جیسی اشیا ذخیرہ کر لی جاتی ہیں اور پھر ماہِ صیام میں ناجائز منافع خوری کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔

صنوعی مہنگائی کے اس جن کو بوتل میں بند کرنا اور سپلائی چین کو برقرار رکھنا براہِ راست حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر خاموش تماشائی کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو مہنگائی کے خلاف فوری متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کا تدارک نہیں کیا جائے گا‘ مہنگائی کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔ مارکیٹ کو متوازن اور سپلائی چین کو ہموار بنانا ایک ناگزیر انتظامی تقاضا ہے‘ جس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔