اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کا فلیش پوائنٹ

افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی تشویشناک صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون سے پہلے کے دور سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ اگلے روز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اسلام آباد میں دہشتگردی کے واقعے کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان سے ابھرنے والی دہشت گردی کو عالمی خطرہ قرار دیا۔ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ملکِ عزیز میں دہشتگردی کے واقعات شروع ہو گئے تھے۔ یہ تبدیلی کابل میں آنے والی تبدیلی کے ساتھ براہ راست جڑی ہوئی اور دہشتگرد عناصر کو طالبان کی سرپرستی کا نتیجہ تھی۔ غیر ملکی افواج کے انخلا اور افغانستان میں مغربی آسرے پر کھڑے حکومتی نظام کے خاتمے سے پیدا ہونے والا خلا دہشتگرد تنظیموں کے پھیلاؤ کا سبب بنا۔

غیر ملکی افواج اور افغان سکیورٹی اداروں کا چھوڑا ہوا بے بہا جدید اسلحہ اور عسکری آلات بھی ان دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والے حکومتی خلا اور امریکی ہتھیاروں سے مسلح دہشتگرد سلامتی کے غیر معمولی خطرے کے طور پر ابھرے۔ اگرچہ اس خطرے سے فی الحال پاکستان نمٹ رہا ہے مگر شدت پسند تنظیموں کی حرکیات پر غور کیا جائے تو یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ دہشت گردی کا یہ خطرہ ہر لحاظ سے عالمی خطرہ ہے۔ افغانستان عالمی اور علاقائی شدت پسندی کا فلیش پوائنٹ بن چکا اور قیادت کا بحران اور باہمی اختلافات کی وجہ سے آج کا افغانستان ماضی کے مقابلے میں دنیا کیلئے کہیں بڑا خطرہ ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو کئی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ عالمی فورمز پراس ابھرتے ہوئے خطرے سے دنیا کو خبردار کیا جائے۔ امریکہ کی قیادت میں بیس سالہ جنگ کے بعد دنیا کو ایک نئے افغانستان کی امید تھی‘ اس قسم کی خوش گمانی طالبان سے بھی تھی مگر توقعات پر اوس پڑ گئی اور افغانستان میں طالبان رجیم کے ہر آنے والے دن نے افغانستان کو شدت پسندی اور دہشت گردی کے مرکز کے طور پر نمایاں کیا۔

اس صورتحال میں دہشت گردی کے عالمی خطرے کو رد کرنا بھی ممکن نہیں۔ پاکستان کی جانب سے عالمی فورمز پر ان مسائل کو اجاگر کرنا قومی اور عالمی ذمہ داری ہے۔ علاقائی ممالک کی سطح پر بھی اس آگاہی اور اتفاقِ رائے کا ہونا بیحد ضروری ہے۔ چین اور پاکستان کی جانب سے افغانستان کو نئی شروعات کرنے اور ترقی کے سفر میں شریک ہونے کی پیشکش کے باوجود کابل کی عبوری حکومت کے طرزِ عمل میں کوئی تبدیلی ظاہر نہ ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ طالبان رجیم افغانستان کو اسی ڈگر پر چلانا چاہتی ہے‘ جو 2001ء میں عالمی دہشت گردی کے بڑے واقعات کا سبب بنی۔ بلکہ اس بار صورتحال ماضی سے زیادہ گمبھیر معلوم ہوتی ہے کیونکہ طالبان رجیم کا اپنا کمانڈ اور کنٹرول مضبوط نہیں اور باہمی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ ایسے میں بھارت جیسے ممالک کا کام آسان ہو جاتا ہے جو اس خلا میں اپنی جگہ بنانے کیلئے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرتے۔ مالی مفادات سے وفاداریاں خریدنا‘ اپنے بھیانک منصوبوں کو تکمیل تک پہنچانا اور خطے میں دہشتگردی کو ہوا دینا مزید آسان ہو جاتا ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر افغانستان کی گہری چھاپ ہے‘ اور یہی کچھ ہمیں اسلام آباد میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ صورتحال بلاشبہ بڑی خوفناک اور تشویشناک ہے کہ دہشت گردی کے ہر ایک واقعے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ سرحدیں بند کی گئی ہیں اور دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد ہم افغان رجیم کے طرزِ عمل کی مذمت کر دیتے ہیں‘ مگر یہی کافی نہیں‘ عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان کو ایسا یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کیلئے افغانستان کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں