صاف پانی کا مسئلہ
پانی کے حوالے سے ایک رپورٹ کے مطابق فیصل آباد‘ ملتان‘ اوکاڑہ‘ ساہیوال اور بہاولپور سمیت پنجاب کے 16 اضلاع میں زیر زمین پانی میں آرسینک کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ضلع پاکپتن میں سو فیصد زمینی پانی آلودہ قرار دیا گیا ہے جبکہ خانیوال میں 80فیصد‘ بہاولنگر اور بہاولپور میں 83 فیصد اور رحیم یار خان میں 60 فیصد پانی آلودہ ہو چکا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق آرسینک ملے پانی کا استعمال انسانی جسم کیلئے خاموش قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ یہ جلد‘ جگر اور گردوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے‘ بچوں کی ذہنی نشوونما کو متاثر کرتا ہے اور اسکا طویل عرصے تک استعمال کینسر جیسے مہلک مرض کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

حکومت کو متاثرہ اضلاع میں بلاتاخیر واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور فعال نگرانی یقینی کا بندوبست کرنے کیساتھ ساتھ ان عوامل پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن کی وجہ سے زیرزمین پانی آلودہ ہو رہا ہے۔ ان عوامل میں صنعتی فضلے کا بغیر ٹریٹمنٹ زیرزمین شامل ہونا‘ سیوریج نظام کی بوسیدگی‘ بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور زرعی شعبے میں کیمیکل اور کھادوں کا بے دریغ استعمال شامل ہیں۔ ضروری ہے کہ صنعتی اداروں کیلئے ویسٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس لازمی قرار دیے جائیں اور سیوریج سسٹم کو اپ گریڈکیا جائے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ پینے کیلئے پانی کو ہمیشہ ابال کر استعمال کریں تاکہ بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔