فکسڈ چارجز کا بوجھ
مہنگی بجلی کے ستائے ہوئے صارفین کو اب ماہانہ فکسڈ چارجز کا بوجھ بھی برداشت کرنا ہو گا۔ اس نئے محصول سے وہ بھی مستثنیٰ نہیں جو ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں اوراس سلیب میں آنے والے زیادہ تر صارفین خطِ غربت سے نیچے ہوتے ہیں۔ ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے صارفین کو 200 روپے‘ 200 یونٹ والے صارفین کو 300 روپے اور 300 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین کو 350 روپے ماہانہ فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔فکسڈ چارجز کی وجہ حکومت اس رقم سے صنعتی اور کمرشل صارفین کو سبسڈی فراہم کرنا بتاتی ہے مگر یہ اقدام عام گھریلو صارفین خاص طور پر کم آمدنی والا طبقے پر ناروا بوجھ ہے۔ گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے سے حکومت کو اضافی ریونیو تو حاصل ہوجائے گالیکن گھریلو صارفین کی جیبوں سے یہ رقم نکلوانا اصولی طور پر درست معلوم نہیں ہوتا ۔

حکومت اگر صنعتی صارفین کو رعایت دینا چاہتی ہے تو اسکا بھگتان گھریلو صارفین کیوں بھگتیں؟ اس مقصد کیلئے حکومت کو صنعتی صارفین کو سرکاری فنڈز سے سبسڈی دینی چاہیے یا آئی پی پیز کیساتھ کیے گئے معاہدوں پر نظر ثانی کی راہ نکالنی چاہیے تاکہ کپیسٹی پیمنٹس کے جس بوجھ کی وجہ سے بجلی کی قیمتوں کو پر لگے ہوئے ہیں اسکا کوئی حل نکل سکے ۔آخر حکومت کب تک ایک شعبے کو دی گئی رعایت کا بوجھ دوسرے شعبے پر ڈالتی رہے گی۔ پائیدار توانائی پالیسی کے بغیر ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔