دہشت گردی کے خلاف قومی عزم
وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کا سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف یکساں مؤقف اپنانے اور اہم مسائل سے نمٹنے کیلئے پالیسی امور پر ہم آہنگی کا فیصلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک ناگزیر تقاضے کی تکمیل ہے۔ منگل کے روز پشاور کور ہیڈکوارٹرز میں سکیورٹی صورتحال پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم ونسق کو پولیس اور سی ٹی ڈی کے تحت نافذ کرنے اور اس ماڈل کو بعد ازاں خیبر‘ اورکزئی اور کُرم میں مرحلہ وار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ ریاستی اکائیوں کو یہ ادراک ہو چلا کہ سرحدوں کی حفاظت اور امن و امان کا قیام کسی ایک جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔ جب سیاسی بیانیہ تقسیم ہوتا ہے تو اس کا فائدہ دہشت گرد اٹھاتے ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومت کے ایک پیج پر آنے سے انٹیلی جنس شیئرنگ‘ آپریشنل تیاری اور انتظامی فیصلوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کے بہتر نتائج سامنے آ سکیں گے۔

البتہ اس حوالے سے پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے دیگر اداروں کی استعداد بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر صوبائی حکومت پولیس کو فرنٹ لائن فورس تسلیم کرتی ہے تو اسے اس قابل بنانا بھی اس کی اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ جدید ترین حربی ساز وسامان سے لیس دشمن کا بخوبی مقابلہ کر سکے۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کا سب سے زیادہ بوجھ خیبر پختونخوا نے اٹھایا ہے۔ رواں برس بھی اب تک دہشت گردی کے 107 میں سے 46 واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ اس دوران دہشت گردی کے سبب صوبہ بھر میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوا بلکہ معیشت‘ تعلیم اور سماجی ڈھانچہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور سے وزیرستان تک‘ خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کے عفریت کا جس طرح مقابلہ کیا ہے‘ وہ اپنی مثال آپ ہے مگر عدم سیاسی اتفاقِ رائے نے ہمارے مسائل کو دوچند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
سیاسی اختلافات سے انسدادِ دہشت گردی کی حکومتی کاوشوں کو ٹھیس پہنچی اور اس عفریت کو شکست دینے کیلئے جس منظم اور جامع ردعمل کی ضرورت تھی وہ ماحول پیدا نہ ہو سکا۔ اب یہ تقاضا یکساں مؤقف کی صورت میں مکمل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہ حقیقت باور کر لینے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی سیاسی وابستگی؛ لہٰذا ان کے خلاف لڑنے والوں کو بھی ہمہ وقت اپنی صفوں کی درست رکھنا چاہیے۔ جب تک تمام پارلیمانی قوتیں اور سٹیک ہولڈرز کسی فیصلے کی پشت پناہی نہیں کریں گے اس وقت تک اسے عوامی سطح پر قبولیت اور استحکام حاصل نہیں ہو سکے گا‘ لہٰذا نفاذِ امن کی پالیسیوں میں سیاسی شرکت ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں عسکری کارروائیوں کی نگرانی اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے کمیٹی کی تشکیل نچلی سطح تک انتظامیہ اور عوام کا اعتماد بحال کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری حکمتِ عملی اپنی جگہ مگر ان علاقوں کی محرومیوں کا ازالہ کرنا بھی ضروری ہے جو دہائیوں سے انتہا پسندی کا سامنا کررہے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھانا چاہیے۔ جب نوجوانوں کے ہاتھ میں قلم اور روزگار ہوگا تو وہ شدت پسندوں کا خام مال نہیں بنیں گے۔ دہشت گردی کا خاتمہ مضبوط قومی عزم ہی سے ہو سکتا ہے۔ دسمبر 2014ء میں اے پی ایس حملے کے بعد جس طرح قوم متحد ہوئی تھی‘ آج پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یکساں مؤقف کو صرف کاغذوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے اثرات عملی اور میدانی سطح پر بھی نظر آنے چاہئیں۔