خسرے کا پھیلاؤ
پنجاب میں خسرے کے پھیلاؤسے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق صوبے میں رواں سال کے پہلے چار ہفتوں میں خسرے کے 1695 مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 2024ء میں خسرہ کے 6747 جبکہ 2025ء میں 4000 مصدقہ کیس رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں صحت کے نظام میں موجود کمزوریوں کو عیاں کرتے ہیں۔خسرے کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے نہ لگوانا‘ بیماری کے بارے میں شعور کی کمی‘ صحت کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری اور اس کا آسانی سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہونا ہے۔

حکومت کو خسرے کے پھیلاؤ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں متاثرہ اضلاع میں فوری ویکسی نیشن مہمات‘ طبی عملے کی تربیت اور عوام میں بیماری کے بارے میں شعور پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ والدین کو بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہیے۔بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوانا اور ابتدائی علامات پر فوری تشخیص اور علاج میں کوئی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ خسرے کے پھیلاؤ سے صرفِ نظر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس انتباہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے خسرے کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے فوری مربوط کوششیں کرنا ہوں گی۔