اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی اور افغانستان

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں حملے طالبان حکومت اور بھارت کی پراکسی جنگ کا نتیجہ ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو میں وزیر دفاع نے افغانستان سے دوبارہ جھڑپوں کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک کابل امن کی ضمانت نہیں دیتا پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائیاں کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔ پاکستان ایک عرصے سے افغانستان کی جانب سے دراندازی‘ دہشتگردی اور پراکسی وار جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور گزشتہ ساڑھے چار برس کے دوران‘ جب سے کابل کا اقتدار عبوری افغان حکومت کے ہاتھ میں آیا ہے‘ اس صورتحال میں مزید بگاڑ آیا اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ ایک عالمی سکیورٹی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت سے قبل 2020ء اور 2021ء میں پاکستان میں بالترتیب دہشتگردی کی کُل 193 اور 268 وارداتیں ہوئیں جبکہ گزشتہ برس ہونے والی وارداتوں کی تعداد 1077 رہی۔رواں سال کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں ہی 120 دہشتگردی کے واقعات ہو چکے۔ اس دوران پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت کو مسلسل اسکی ذمہ داریوں اور افغانستان میں پرورش پانے والے عالمی دہشت گرد گروہوں کے بارے میں توجہ دلائی جاتی رہی ہے اور بنیادی طور پر افغانستان سے ایک ہی مطالبہ رہا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے مگر طالبان رجیم نے پاکستان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے اورشکایات کا ازالہ کرنے کے بجائے الٹا پاکستان پر الزام تراشی کی روش جاری رکھی۔ افغانستان کا یہ رویہ نہ صرف غلط بلکہ عالمی قوانین کے بھی منافی ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی میں افغانستان کا عمل دخل کھلا راز ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انتہا پسند عناصر جو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہیں‘ ان کے تار افغانستا ن ہی سے ہلائے جاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں میں بھی افغانستان کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی افغانستان سے متعلق تجزیاتی رپورٹ نہ صرف پاکستان کے خدشات اور افغانستان سے متعلق تحفظات کی تصدیق کرتی ہے بلکہ اس نے افغانستان میں پلنے والی شدت پسند تنظیموں کو پورے خطے کے امن کیلئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ‘ تھنک ٹیک اور بین الاقوامی انٹیلی جنس جائزوں میں بھی توثیق کی گئی ہے کہ افغانستان بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ پاکستان اس وقت اسی مسئلے کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ پاکستان کا تحمل ہے کہ افغانستان کی جانب سے درپیش سکیورٹی خطرات کے باوجود اِدھر سے کوئی پہل نہیں کی گئی بلکہ یہ مسئلہ عبوری انتظامیہ کیساتھ اٹھایا گیا اور مسلسل اٹھایا جارہا ہے مگر کابل کے لیت ولعل اور میں نہ مانوں کے رویے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو تلخ بنا دیا ہے۔حالیہ عرصے میں بھی سرخ لکیر اُدھر سے عبور ہوئی ہے‘ جس کے سبب وزیر دفاع کے بیانات میں خشونت و تلخی آئی ہے۔

پاکستان کو اپنی سلامتی کی حفاظت کیلئے یقینا ہر اُس اقدام کا حق حاصل ہے جو عالمی ضوابط کے مطابق اور وقت کی ضرورت ہو۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 بالکل واضح ہے۔ بلاشبہ افغانستان پاکستان کا ایک ہمسایہ ملک ہے اور دونوں اطراف کے عوام تاریخی‘ نسلی اور دینی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں مگر یہ تعلق بدرجہ اتم اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ افغانستان پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے کے بجائے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے۔ پاکستان اور افغانستان میں پائیدار امن اسی نکتے پر قائم ہو سکتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوتاہم اگر افغانستان اپنی روش پر قائم رہا تو وزیر دفاع نے عالمی میڈیا کے سامنے پاکستان کے دفاع کے تقاضے بالکل واضح کر دیے ہیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں