غیر معمولی نقصان
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مالی سال 2024-25ء کی کارکردگی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ایک سال میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے قومی خزانے کو 472 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔سب سے زیادہ نقصان‘ 87ارب 48کروڑ روپے‘ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے پہنچایا۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کی بنیادی وجوہات میں لائن لاسز‘ بجلی چوری‘ ناقص بلنگ سسٹم اور کمزور ریکوری کے علاوہ کمپنیوں کی آپریشنل منصوبہ بندی میں ناکامی شامل ہے۔ جس کے نتیجے میں نہ صرف خسارہ بڑھ رہا ہے بلکہ سرکلر ڈیٹ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لائن لاسز اور بجلی چوری پر قابو پانا اور بلوں کی ریکوری یقینی بنانا بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

کمپنیوں کو چاہیے کہ ترسیلی نظام کی بہتری‘ جدید میٹرنگ سسٹم اور بلوں کی ریکوری کے نظام کو بہتر بنائیں۔ حکومت کو بھی اس ضمن میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ حکومت بجلی چوری اور بروقت بل ادا نہ کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنائے۔ محض رپورٹیں جاری کرنے اور تجاویز دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ بجلی شعبے میں اصلاحات‘ عملی اقدامات اور مستقل نگرانی ہی قومی خزانے کے تحفظ اور پاور سیکٹر کی بہتری کی ضمانت ہیں۔