غضب للحق!
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے افغان طالبان رجیم کے خلاف پاک فوج کی کارروائیوں کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے گزشتہ روز میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے نام سے منسوب ان کارروائیوں میں طالبان رجیم کے 274اہلکار مارے گئے اور 400 سے زائد زخمی ہوئے۔ان کارروائیوں کے دوران طالبان رجیم کی 73 پوسٹیں تباہ ہوئیں‘ 18پوسٹوں کو پاک فوج نے قبضے میں لے کر وہاں قومی پرچم لہرادیا۔ طالبان رجیم کو ملٹری ہارڈ ویئر اور تنصیبات کی مد میں بھی غیر معمولی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افواجِ پاکستان کی کارروائیوں میں طالبان رجیم کے 115ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ ہو ئیں۔ ان کارروائیوں میں وطن عزیز کے 12جوانوں نے مادرِ وطن کی حفاظت میں جان کی قربانی پیش کی اور 27زخمی ہیں۔ آپریشن غضب للحق افغان رجیم کی ان عاقبت نااندیش کارروائیوں کا جواب تھا جو گزشتہ روز پاک افغان بین الاقوامی سرحد کے وسیع علاقے میں 53مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کی صورت میں سامنے آئیں۔

افغان رجیم کی ان کارروائیوں کا فوری اور مؤثر جواب ناگزیر تھا جو کہ بھر پور پیشہ ورانہ انداز سے دیا گیا۔ گزشتہ برس بھی افغان رجیم کی جانب سے سرحدی پوسٹوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے‘ جس کے بعد پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب دیا گیا اور افغانستان کے معاملے میں ریاستی پالیسی پر وسیع نظر ثانی کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس ہمسایہ ملک کیلئے ملکِ عزیز کی قربانیوں کا کوئی حساب نہیں مگر اس کا اجر افغانستان کی جانب سے دہشتگردی اور ملک دشمنی کی صورت میں برآمد ہوا۔ دہشتگردی کے ہر واقعے میں بلامبالغہ افغانستان کسی نہ کسی طرح سے ضرور ملوث رہا ہے۔ یہ صورتحال کسی صورت قابلِ برداشت نہیں تھی۔ پاکستان نے پھر بھی کئی سال اسے برداشت کیا۔ اس دوران افغانستان کو ہر ممکن طریقے سے باور کرانے کی کوشش کی گئی‘ اعلیٰ حکومتی عہدیدار‘ سفارتی نمائندے‘ سیاستدان‘ علما‘ سماج کا ایسا کون سا شعبہ ہے جس کو اس سلسلے میں بروئے کار نہیں لایا گیا اور اپنی پوزیشن اور تحفظات سے افغان رجیم کو آگاہ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔
مگر دوسرے فریق نے پاکستان کی کسی شکایت کو درخور اعتنا نہیں سمجھا اور دہشت گردی اور دراندازی کا سلسلہ بجائے کم ہونے کے بڑھتا چلا گیا اور پہلے جو تھوڑا بہت پردہ تھا‘ طالبان رجیم نے اسے بھی برطرف کیا اور براہِ راست پاکستان کے دشمنوں کیساتھ صف آرائی شروع کر دی۔ اس عرصے میں پاکستان میں درجنوں ایسے بڑے دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن کا کمانڈ اور کنٹرول افغانستان میں تھا۔ ’’معرکہ غضب للحق‘‘ کے نتائج تسلی بخش ہیں اور اس سے دہشتگردی کے نیٹ ورک کو کاری ضرب لگی ہے۔ تاہم یہ سمجھنا قبل از وقت ہو گا کہ افغانستان کی جانب سے دہشتگردی کا تمام تر خطرہ ختم ہو گیا ہے؛ چنانچہ ضروری ہے کہ اس جانب آپریشنل توجہ کا درجہ انتہائی سطح پر برقرار رکھا جائے تاکہ دہشتگردی کے باقی ماندہ خطرے کا بھی صفایا ہو سکے۔ اس سطح پر جب خطرے کی بڑی حد تک کمر توڑ دی گئی ہے‘ رہے سہے خطرے کو پروان چڑھنے اور آنے والے وقت میں پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے چھوڑ دینے میں کوئی حکمت نہیں۔ معرکہ غضب للحق کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ فتنہ ہمیشہ کیلئے ختم کیا جا سکے۔
افغانستان کی زمین کے پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی اور اس حوالے سے قابلِ تصدیق اقدامات پاکستان کا دیرینہ مطالبہ ہے۔ پاکستان کو یہ مطالبہ اب مزید زور دے کر اٹھانا چاہیے۔ اس سلسلے میں افغان رجیم اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تو اچھی بات ہے بصورت دیگر پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے ان تمام ٹھکانوں کا صفایا کرے جو اس وقت قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں یا آنے والے وقت میں خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔