گداگروں کی یلغار
ماہِ صیام کے ساتھ ہی ملک کے ہر شہر پر پیشہ ور بھکاریوں اور گداگروں کی یلغار ہوتی ہے۔یہ سلسلہ اگرچہ نیا نہیں مگر اس سال بازاروں ‘ مساجد کے دروازوں اور چوک چوراہوں میں گداگروں کی کثرت پچھلے برسوں کو مات دے گئی ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں گداگری ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے گزشتہ برس کے ایک بیان کے مطابق ملک میں سوا دو کروڑ افراد گداگری کو بطور پیشہ اختیار کر چکے ہیں اور بھیک مانگ کر شہریوں سے ماہانہ 82 ارب روپے جمع کرتے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے بیروزگاری بھی ایک اہم عامل ہے مگر سب سے بڑا سبب وہ منفی ذہنیت ہے جو مانگنے کو عار نہیں سمجھتی اور کام کرنے کے بجائے مانگ کر کھانے کی عادی ہے ۔

گداگری کی صنعت ملکی سرحدوں تک ہی محدود نہیں خلیجی ممالک میں بھی یہ کافی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں اور ماضی میں سینکڑوں گداگروں کو پکڑ کر پاکستان واپس بھیجا گیا ۔ ملک میں انسدادِ گداگری ایکٹ تو موجود ہے لیکن عملی نفاذ کی حالت سب کے سامنے ہے۔ بازار‘ سڑکیں اور گلیاں گداگروں کی آماجگاہیں بن چکی ہیں‘ کم از کم ماہ رمضان میں کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔انسداد گداگری کا قانون بھی بن گیا‘ حکومت کے پاس نفاذ قانون کی اتھارٹی ہے مگر اس کا عملی اطلاق کہیں نہیں ملتا۔گداگری کا انسداد یقینی بنانا اور اس لعنت کا خاتمہ کرنا حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں مؤثر عملی اقدام کی ضرورت ہے۔