غیر معیاری تعلیم!
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں سکول جانے والے دس سال سے کم عمر 77 فیصد بچے سادہ جملے پڑھنے اور انہیں سمجھنے سے بھی قاصر ہیں۔ یہ رپورٹ ہمارے تعلیمی نظام میں موجود بنیادی نقائص کی نشاندہی کرتی ہے۔ تعلیم کے معیار میں کمی کی بڑی وجہ تعلیمی نظام میں احتساب اور مؤثر نگرانی کا فقدان ہے۔ اگر سکولوں کی کارکردگی‘ اساتذہ کی تدریسی صلاحیت اور طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے تو بہت سی خامیوں کی بروقت نشاندہی اور اصلاح ممکن ہو سکتی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ نصاب کو بھی عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ محض رَٹا لگانے کے بجائے تنقیدی سوچ اور عملی مہارتیں حاصل کر سکیں۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ نہ صرف تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کریں بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ مختص وسائل شفاف اور مؤثر انداز میں استعمال ہوں۔

سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی‘ جدید لیبارٹریوں اور کمپیوٹر لیبز کا قیام‘ محفوظ اور معیاری عمارتوں کی تعمیر اور تعلیمی ٹیکنالوجی کا فروغ ایسے اقدامات ہیں جو نظامِ تعلیم کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو ترجیح دینا ہوگی۔ جدید تربیت یافتہ اساتذہ ہی بچوں کو مؤثر انداز میں تعلیم دے سکتے اور انہیں علم کیساتھ ساتھ کردار سازی اور سماجی شعور بھی فراہم کر سکتے ہیں۔