پٹرولیم ذخائر پہ ابہام کیوں؟
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی پٹرولیم سپلائی متاثر ہوئی ہے‘ جس سے عالمی سطح پر تیل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔ گورنر سٹیٹ بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں تیل کی عالمی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس وقت ملک عزیز کا ایک بڑا مسئلہ پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر ہیں۔ حکومت کے مطابق ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا 28 دن اور ایل پی جی کا 15 دن کا ذخیرہ موجود ہے مگر پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا مؤقف اس سے یکسر مختلف ہے۔ پٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ذخائر کے حوالے سے عوام کو گمراہ کیا جا رہا‘ ڈیلرز کو اوسط فروخت کا نصف پٹرول فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ ابہام اور بے یقینی کی صورتحال عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا کر رہی ہے۔

اس نوعیت کی صورتحال ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کو ہوا دیتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو شفاف معلومات فراہم کرکے اس ابہام کا خاتمہ کرے۔ علاوہ ازیں حکومت کو طویل مدتی منصوبہ بندی کرتے ہوئے متبادل توانائی ذرائع اور توانائی کی بچت کے اقدامات کو بھی تیز کرنا چاہیے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ افواہوں پر یقین نہ کریں۔ عالمی حالات اور ملکی ذخائر کے مابین توازن قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ حکومت توانائی کی سپلائی کو مستحکم رکھنے اور ممکنہ بحران سے بچاؤ کیلئے فوری اور شفاف اقدامات کرے۔ بصورت دیگرعوام میں غیر یقینی بڑھنے سے مہنگائی‘ ذخیرہ اندوزی اور معاشرتی اضطراب میں مزید اضافہ ہو گا۔