جنگ کی پھیلتی چنگاریاں!
تاریخِ عالم گواہ ہے کہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ یہ اپنے پیچھے نسلوں کی تباہی‘ معاشی بربادی اور نفرتوں کی وہ آگ چھوڑ جاتی ہیں جسے بجھانے میں صدیاں بیت جاتی ہیں۔ آج دنیا ایک بار پھر اسی دہلیز پر کھڑی ہے جہاں بارود کی بو اور دھوئیں کے بادلوں نے امن کی ہر امید کو دھندلا دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکنے والی آگ اب ایک علاقائی تنازع نہیں رہی بلکہ اس کی تپش اس خطے سے دور‘ بحرِ ہند کے پانیوں میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز سری لنکا کے قریب بحرِ ہند میں ایرانی بحری جہاز پر ہونے والے امریکی حملے نے اس خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ جنگ کا دائرہ اب پاکستان کے مشرق تک وسیع ہو چکا ہے۔ یہ صورتحال عالمی نظام کے بکھرنے اور ایک بڑی عالمی جنگ کی دستک معلوم ہو رہی ہے‘ جس کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے بجا طور پر سفارتی کوششوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔

جنگ کی پھیلتی ہوئی چنگاریوں نے علاقائی طاقتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں نیٹو کے ایک سابق کمانڈر کا یہ بیان کہ دنیا تیسری عالمی جنگ دیکھ رہی ہے‘ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ ان خدشات کی عکاسی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہولناک ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ لہو لہو ہے تو دوسری طرف روس اور یوکرین کے تنازع نے عالمی معیشت کو مفلوج کر رکھا ہے۔ روس کی جانب سے یورپ کو گیس کی فراہمی معطل کرنے کی دھمکی نے توانائی کے عالمی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے‘ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشی ناکہ بندیوں اور توانائی کی جنگوں کی صورت میں ان کے اثرات عام آدمی کی دہلیز تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے‘ جو پہلے ہی معاشی عدم استحکام سے نبرد آزما ہے‘ یہ صورتحال دہری آزمائش سے کم نہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے امن کا علمبردار رہا ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی اسلام آباد کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں‘ طاقت کا استعمال صرف نفرت کو جنم دیتا ہے۔ اسی تناظر میں ترکیہ اور انڈونیشیا سمیت اہم علاقائی اور مسلم ممالک سے رابطے تیز کر دیے گئے ہیں۔ یہ سفارتی فعالیت اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان ایک وسیع عالمی بلاک کے ذریعے اس آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ترکیہ اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ مؤقف اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اسرائیل اور دیگر جارح قوتوں کو لگام دے۔ اگر عالمی طاقتوں نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ چنگاری پورے کرۂ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی اس کشیدگی کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سکیورٹی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ایرانی بحری جہاز پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں سمندری تجارتی گزرگاہیں بھی اب محفوظ نہیں رہیں۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ سمندری تجارت سے وابستہ ہے لہٰذا خطے میں کسی بھی قسم کی بحری یا زمینی جنگ پاکستان کے سٹرٹیجک مفادات کے لیے براہِ راست نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت جنگ بندی کیلئے سفارتی کوششیں مزید تیز کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ جنگ کے شعلوں کو مزید پھیلنے سے روکا جائے اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر باہمی مسائل حل کیے جائیں۔ اس نازک موڑ پر ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے اپنی خاموشی توڑیں۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کی آگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو انسانیت ایک ایسے تاریک دور میں داخل ہو جائے گی جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ ہو۔ صدیوں کی انسانی دانش کا حاصل یہی ہے کہ دنیا کو بارود کے ڈھیر سے بچانے کیلئے سفارتکاری کے بند دروازے کھولے جائیں اور باہمی مکالمے کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے‘ اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے۔