اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی، مؤثر کنٹرول ناگزیر

وفاقی ادارۂ شماریات کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران چکن‘ گیس‘ پٹرول اور ڈیزل سمیت 13 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مجموعی طور پر مہنگائی کی شرح میں 0.37 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ موجودہ حالات میں جب عام آدمی کی آمدن محدود اور منجمد ہے‘ روزمرہ اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ نچلے اور متوسط طبقے کیلئے بقا کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ ان کروڑوں افراد پر مسلسل بڑھتا بوجھ ثابت ہو رہی ہے جو پہلے ہی اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے سخت تگ ودو کر رہے ہیں۔رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ بھی اختتام پذیر ہونے کو ہے‘ مگر ماہِ مقدس کے آغاز ہی سے گرانی کی جو لہر اٹھی تھی‘ حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔

مہنگائی کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی صورتحال بھی عام آدمی کیلئے سخت خطرات کا پیغام لا رہی ہے۔ علاقائی عدم استحکام اور مہنگی توانائی‘ نیز سپلائی چین کے ممکنہ خلل سے اشیائے خور ونوش کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ تقویت پکڑ رہا ہے۔ ان حالات میں یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کا آغاز کرے۔ انتظامی سطح پر پرائس کنٹرول اور ذخیرہ اندوزی کی فوری روک تھام ناگزیر ہے۔ اگر آنے والے خطرات کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو مہنگائی کا جن بے قابو ہو کر سماجی بے چینی اور معاشی بدحالی کو مزید ابتر بنا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں