اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ابھرتے معاشی خطرات

وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ آؤٹ لک رپورٹ جہاں ایک طرف معاشی استحکام اور مہنگائی میں کمی کی نوید سنا رہی ہے‘ وہیں اس میں معاشی مستقبل کے حوالے سے خطرات اور چیلنجز کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برآمدات میں اضافہ صرف پیداوار بڑھانے سے نہیں بلکہ لاگت کم کرنے سے ممکن ہے لیکن توانائی کے بحران اور بلند شرح سود جیسے عوامل اس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس رپورٹ کا ایک اہم پہلو مالیاتی نظم وضبط اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈز کا مؤثر استعمال ہے۔ اگرچہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیاں کر کے مالیاتی خسارے کو قابو کرنے کی کوشش کی ہے لیکن یہ حکمت عملی طویل مدتی بنیادوں پر انفراسٹرکچر کی تعمیر اور روزگار کے مواقع میں رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

اسی طرح یہ بھی اربابِ اختیار کی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح محدود وسائل کے ساتھ انسانی سرمائے کی ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین خطرات سے نمٹتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ معاشی حوالے ایک ایسی جامع اور پائیدار معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو بیرونی جھٹکوں کو سہنے کی سکت رکھتی ہو۔ برآمدات کو وسعت دینا اور توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف منتقلی ناگزیر ہو چکی۔ اگر ان سنگین معاشی چیلنجز کی جانب بروقت توجہ نہ دی گئی تو خدشہ ہے کہ ملکی معیشت عبوری استحکام سے نکل کر دوبارہ بحران کا شکار ہو جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں