اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پائیدار امن کا راستہ

مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ سوا دو سال قبل غزہ سے شروع ہونے والی چنگاری اب پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور جنگ کا دائرہِ لبنان اور شام سے ہوتا ہوا براہِ راست ایران اور اسرائیل کے مابین تصادم تک پہنچ چکا ہے۔ یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت اور سیاست پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان جیسے ملک کیلئے‘ جس کے مفادات خلیجی ممالک اور ایران دونوں سے وابستہ ہیں‘ سفارتی آپشنز تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ جنگ جوں جوں طول پکڑ رہی ہے‘ یہ خدشہ حقیقت کا روپ دھار رہا ہے کہ یہ تصادم مستقل علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی اور عسکری امور کے ماہرین گزشتہ ایک ہفتے کی جنگ کے تناظر میں یہ تخمینہ لگا رہے ہیں کہ اگر یہ جنگ مزید دو ہفتوں تک جاری رہی تو خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں خطے کی جغرافیائی حدود اور علاقائی سیاسی اتحاد مکمل طور پر تبدیل ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ایک طویل جنگ نہ صرف کثیر جانی ومالی نقصان کا باعث بنے گی بلکہ یہ آنے والی نسلوں کیلئے نفرت اور خطے میں عدم استحکام کی بنیاد بھی رکھ دے گی‘ جس سے مشرقِ وسطیٰ کبھی نہ ختم ہونے والے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلم ممالک آپس میں برسرِ پیکار ہوئے اس کا فائدہ ہمیشہ بیرونی قوتوں نے اٹھایا۔ موجودہ بحران کے پیچھے بھی وہی قدیم ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کارفرما نظر آتی ہے۔ مسلم ممالک کو مسلکی اور سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کرنا دشمن کی گہری سازش ہے تاکہ مسلم ممالک کی معاشی اور عسکری قوت کو کمزور کیا جا سکے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمِ اسلام بیرونی سازشوں سے ہوشیار رہے اور اپنے باہمی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرے‘ ورنہ یہ پھیلتی ہوئی آگ رفتہ رفتہ سب کو اپنی لپیٹ میں لیتی جائے گی۔اس بحران کا حل صرف مفاہمت اور بات چیت میں ہے۔

مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی اور گلف کوآپریشن کونسل (GCC) کا ایک مشترکہ اور ہنگامی اجلاس وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ دونوں فورمز اگر مل کر ایک واضح مؤقف اپنائیں تو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی رنجشوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں جنگ کے پھیلتے شعلوں کے باوجود اب تک او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کا نہ طلب کیا جانا مسلم ڈپلومیسی کا ایک بڑا خلا ہے۔ جب تک مسلم دنیا کے رہنما ایک میز پر بیٹھ کر مشترکہ مؤقف نہیں اپنائیں گے‘ عالمی قوتوں کی من مانیاں جاری رہیں گی۔ پاکستان روایتی طور پر مشرقِ وسطیٰ میں ایک پُل کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ آج پھر وقت ہے کہ اسلام آباد اپنی سفارتکاری کو متحرک کرے۔ ایران اور گلف کوآپریشن کونسل (خاص طور پر سعودی عرب) کے مابین مؤثر رابطہ کاری اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے پاکستان کو فرنٹ محاذ پر آنا چاہیے۔ پاکستان کے سبھی ممالک کے ساتھ گہرے تاریخی اور تزویراتی تعلقات ہیں‘ جو اس نازک مرحلے میں اسے ایک مثالی مصالحت کار بنا سکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی آگ بجھانا محض خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے مفاد کا تقاضا ہے۔ اگر آج مسلم ممالک نے اپنے فروعی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر دشمن کی سازشوں کا ادراک نہ کیا تو آنے والا وقت مزید ہولناک ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ او آئی سی اور جی سی سی خوابِ غفلت سے جاگیں اور پاکستان اپنی روایتی مصالحانہ سفارتکاری کے ذریعے اتحادِ مسلم کی مالا کے موتیوں کو دوبارہ پرونے کی کوشش کرے۔ محدود ہوتی ہوئی گنجائش کے باوجود‘ پاکستان کو جرأتمندانہ اور فعال سفارتکاری کے ذریعے ایران و خلیجی ممالک کے درمیان موجود غلط فہمیوں کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور تمام فریقوں کو یہ باور کرانا چاہیے کہ پائیدار امن کا راستہ صرف مذاکرات سے نکلتا ہے اور اتحاد ہی میں سب کی بقا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں