مہنگائی کے وار جاری
ادارۂ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہی ہفتے میں 1.89 فیصد کے غیر معمولی اضافے سے مہنگائی کی سالانہ شرح 6.44 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں اس بڑے اضافے کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا ہوشربا اضافہ ہے جس نے ملکی معیشت کے تمام شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 20 فیصدسے زائد اضافہ عام آدمی کے بجٹ کیلئے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں۔ اسی طرح ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی تقریباً 12 فیصد کا اضافہ ہو چکا ہے۔ توانائی کے ان ذرائع کا براہِ راست تعلق نقل و حمل اور پیداواری لاگت سے ہوتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو نتیجہ ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے ملک میں مہنگائی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا ہے جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید شدت کے ساتھ نمایاں ہوں گے۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک توانائی کی قیمتوں کو مستحکم نہیں کیا جاتا‘ تب تک بازار میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کے معاشی و سماجی اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں پر نظرثانی کرے تاکہ عوام کو مہنگائی میں ریلیف مل سکے۔