اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

لکی مروت میں دہشت گردی

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے قبائلی سب ڈویژن بیٹنی میں پولیس اہلکاروں پر دہشت گردوں کا حملہ‘ جس میں ایس ایچ او سمیت سات اہلکار شہید ہو گئے‘ اس بڑھتے ہوئے چیلنج کی سنگینی کو واضح کرتا ہے جس کا مقابلہ ہماری فورسز مردانہ وار کر رہی ہیں۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز پر ہونے والے یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ شرپسند عناصر اپنی بقا کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں اور بوکھلاہٹ میں آسان اہداف کو نشانہ بنا کر خوف وہراس پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس وقت دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب للحق اپنی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے‘جس کے تحت دہشتگردوں کے ٹھکانوں‘ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جا رہا ہے۔ لکی مروت جیسے واقعات دراصل اسی آپریشن کا شکست خوردہ ردعمل ہیں۔ جب ریاست دہشتگردوں کے گھیرا تنگ کرتی ہے تو وہ آسان اہداف کو نشانہ بنا کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔

یہ حملے اس بات کی علامت ہیں کہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم ہو رہے ہیں اور ان کی سپلائی لائنیں کٹ چکی ہیں۔ ہماری بہادر فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ثابت کیا ہے کہ مادرِ وطن کی حفاظت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم سکیورٹی فورسز کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہو۔ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کیلئے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے ساتھ اس انتہا پسندانہ سوچ کا بھی خاتمہ ضروری ہے جو اس فتنے کی آبیاری کرتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں