اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خطے میں امن کیلئے مشترکہ کوششیں ناگزیر

ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کا پورا خطہ نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے سفارتی سطح پر سرگرمیوں میں تیزی اور مسلم ممالک کو آپسی کشیدگی سے بچانے کی مخلصانہ کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سعودی عرب میں ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں مملکت سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا اعادہ اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کیلئے مشترکہ طور پر کام جاری رکھا جائے گا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے امن‘ مذاکرات اور سفارتی حل کے اصولوں پر مبنی رہی ہے۔ اس سے قبل ایران‘ عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک سے سفارتی رابطے کیے گئے ہیں۔ یہ رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی نہ ہوئی تو یہ تنازع کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا‘ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

ایران پہلے ہی اس خدشے کا اظہار کر چکا ہے کہ جنگ کے پھیلنے سے علاقائی ممالک بھی اس تنازع میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ‘ عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور توانائی کے بحران جیسے مسائل سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ صورتحال مزید حساس ہے کیونکہ ایک طرف عرب ریاستوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی تاریخی‘ جغرافیائی اور معاشی روابط ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا متوازن اور محتاط سفارتی مؤقف نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات تاریخی نوعیت کے ہیں اور صرف اقتصادی شعبے تک محدود نہیں بلکہ گزشتہ برس دونوں ملکوں کے مشترکہ دفاع کے معاہدے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی نوعیت پہلے سے مختلف ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات اور سلطنتِ عمان کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات گہرے اور تاریخی اہمیت کے حامل ہیں؛ چنانچہ پاکستان کے لیے ممکن نہیں کہ برادر اسلامی ملکوں کے دفاعی خدشات سے لاتعلقی برت سکے۔

دوسری جانب ایران کے ساتھ تعلقات کی اپنی اہمیت ہے۔ بہرکیف پاکستان ہی اس وقت ایک ایسا ملک ہے جس کے مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران کے سبھی متاثرین کے ساتھ باہمی رشتوں کی کشش اور نوعیت تقریباً یکساں ہے۔ پاکستان کی اس کشیدگی کے سبھی کرداروں کے ساتھ تعلق اور اعتماد سبھی کو اس بحران سے نکلنے کی راہیں تلاش کرنے میں مددکر سکتا ہے‘ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی میں نمایاں کردار ادا کرنے کیلئے سرگرم عمل ہو۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ کشیدگی میں کمی کیلئے فوری جنگ بندی کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اپنی سفارتی کوششوں کو فعال بناتے ہوئے علاقائی اور عالمی سطح پر رابطوں کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ جیسے فورمز پر بھی اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اٹھایا جانا چاہیے تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریق اندھا دھند طاقت کے بجائے تحمل سے معاملات کو دیکھیں اور مذاکرات کی میز پر آئیں۔ خلیجی ممالک کی بقا اور استحکام کا تقاضا یہ ہے کہ آپس کے تصادم کے بجائے مشترکہ دشمن کو پہچانیں‘ جو بلاشبہ صہیونی ریاست ہے۔ خلیجی ریاستوں اور ایران کے باہمی ٹکراؤ سے اگر کسی کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو وہ اسرائیل ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں