ایل پی جی، منافع خوری
کسی بھی علاقائی یا عالمی بحران کی صورت میں ملک عزیز میں منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ ان دنوں ملک میں توانائی ڈیلرز عوام کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو جواز بنا کر لوٹ رہے ہیں۔ اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 226 روپے فی کلو مقرر ہے لیکن مختلف شہروں میں یہ 350 سے 380 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے‘ یعنی سرکاری نرخوں کے مقابلے میں تقریباً 68 فیصد مہنگی۔ یہ اضافی بوجھ عوام کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہو رہا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ اور اوگرا اس صورتحال پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ عوام پہلے ہی مہنگائی‘ بے روزگاری اور قوتِ خرید میں کمی کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

منافع خوری کی وجہ سے ایل پی جی جیسی بنیادی ضرورت بھی ان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔ حکومت فوری طور پر نہ صرف ایل پی جی پر منافع خوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے بلکہ اشیائے خورونوش کے ذخیرہ اندوز اور دیگر منافع خور عناصر کیخلاف بھی سخت اقدامات کرے۔ عالمی بحران سے زیادہ مقامی سطح پر منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی نے ملک کے اندر عوام کی زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ہر ممکن ریلیف پہنچائے اور توانائی و اشیائے خورونوش کی مارکیٹ میں نظم و ضبط قائم کرے تاکہ بحران کی صورت میں بھی عوام کو اضافی بوجھ نہ اٹھانا پڑے۔