اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

انتظامی غفلت کا شاخسانہ

اتوار کے روز کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس نوشہرو فیروز میں ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔ اس حادثے سے متعلق سامنے آنے والی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرین کی تقریباً 60 فیصد بوگیوں کی بریکیں کام نہیں کر رہی تھیں۔ اہم بات یہ ہے کہ روہڑی سٹیشن پر ہونے والی انسپکشن کے دوران ہی یہ بات علم میں آ گئی تھی کہ ٹرین کی 18 میں سے 10بوگیاں ناقص حالت میں ہیں‘ جن میں نو بغیر بریک کے چل رہی ہیں۔ اسکے باوجود ٹرین کو سفر جاری رکھنے کی اجازت دے کر سینکڑوں مسافروں کی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا۔ مینٹیننس نقائص کے باوجود ٹرین کو سفر کی اجازت دینا اور حادثے میں ایک شخص کا جاں بحق ہونا‘ یہ واقعہ پاکستان ریلوے کے انتظامی نظام میں موجود خامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ٹرینوں اور پٹڑیوں کی ناقص دیکھ بھال‘ ناکارہ بوگیوں کا استعمال اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کا سفر ازحد خطرناک سمجھا جاتاہے۔ حکومت کو چاہیے کہ شالیمار ایکسپریس حادثے پر جامع تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔ آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کیلئے صرف رسمی انسپکشن نہیں بلکہ مکمل اور ذمہ دارانہ نگرانی یقینی بنائی جائے تاکہ محض محفوظ اور سفر کے قابل ٹرینیں ہی ٹریک پر رواں دواں ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں