اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غذائی قلت کے خطرات

اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی سطح پر مزید ساڑھے چار کروڑ افراد کو شدید بھوک میں دھکیل سکتی ہے۔اس وقت پوری دنیا میں 31 کروڑ 90 لاکھ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں‘ جبکہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے خوراک‘ تیل اور شپنگ کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے باعث خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے طبقات کی زندگی مزید خطرے میں پڑ گئی ہے۔ اس بحران کا حل فوری اور عملی اقدام میں مضمر ہے۔ عالمی اداروں اور طاقتور ممالک کو چاہیے کہ وہ اس جنگ کے خاتمے کیلئے مؤثر سفارتی کوششیں کریں تاکہ غریب اور بے سہارا طبقات بھوک‘ افلاس اور بے گھری سے محفوظ رہ سکیں۔

دوسری جانب پاکستان کیلئے یہ انتباہ اسلئے بھی زیادہ سنگین ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں پہلے ہی 75لاکھ سے زائد افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر اٹھ رہی ہے جس سے کمزور معاشی سکت کے حامل طبقات کیلئے اشیائے خورونوش کا حصول مشکل تر ہو رہا ہے۔ حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کیلئے غذائی قلت کے شکار افراد کیلئے ٹارگٹڈ سبسڈی اور خصوصی فوڈ پروگرامز کا آغاز کرنا چاہیے۔ اگر عالمی برادری نے مشرقِ وسطیٰ میں قیام امن کیلئے بروقت کردار ادا نہ کیا تو دنیا کے کئی خطے شدید غذائی قلت کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں