مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کے خدشات
خلیج فارس کے علاقے میں جنگی صورتحال کی وجہ سے دنیا بھر میں توانائی کے خدشات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے بعد خلیجی ممالک میں توانائی کے وسائل کو ہدف بنائے جانے کے واقعات کے نتیجے میں‘ نیز ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کو توانائی کے وسائل کی قلت سامنا ہے۔ حالیہ اعداد وشمار کے مطابق ملک میں خام تیل کے صرف 11 دن‘ ڈیزل کے 21 دن‘ پٹرول کے 27 دن اور ایل پی جی کے صرف نو دن کے ذخائر باقی رہ گئے ہیں۔ ان حالات میں خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی خصوصاً خلیجی پانیوں میں غیر یقینی حالات پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملکوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ آبنائے ہرمز جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل ہوتی ہے‘ ایران پر امریکی حملے کے بعد سے حساس صورت اختیار کر چکی ہے۔

اگرچہ اطلاعات یہ ہیں کہ ایرانی افواج کی جانب سے جن ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے پاکستان ان میں سے ایک ہے اور حالیہ دنوں پاکستان کا ایک آئل ٹینکر بحفاظت اس راستے سے گزر کر آیا ہے لیکن کشیدگی کے اس ماحول میں تجارت اور ترسیلات میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا؛ چنانچہ جنگ طول پکڑتی اور خلیج فارس میں کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو توانائی کی ترسیل میں مشکلات اور قیمتوں میں انتہائی اضافہ خارج از امکان نہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کیلئے شدید تشویش کا باعث ہو گی۔ ملک میں تیل کے مہینے سے بھی کم ذخائر واضح کرتے ہیں کہ اس حوالے سے منصوبہ بندی اور پیشگی حکمت عملی میں بڑی خامیاں موجود ہیں۔ پاکستان جیسے بڑی آبادی والے ممالک توانائی کے محفوظ ذخائر کا اہتمام کرتے ہیں اور ہمہ وقت ہنگامی صورتحال کیلئے تیار رہتے ہیں مگر ہمارے حالات یہ ہیں کہ چند ہفتوں کا پیشگی بندوبست بھی نہیں ہوتا نتیجتاً ہم ہمہ وقت عالمی منڈی کی اونچ نیچ کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری اور طویل مدتی دونوں نوعیت کے اقدامات کرے۔
آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو پاکستان کو دیگر بندرگاہوں اور راستوں کے ذریعے توانائی کی ترسیل کے امکانات کا جائزہ لینا ہوگا۔ توانائی کا بحران صنعتی پیداوار کو متاثر کرتا ہے اور عام شہری کی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیتا ہے جبکہ ایل پی جی کی قلت گھریلو صارفین کیلئے مشکلات بڑھا دیتی ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران معاشی بدحالی اور صنعتی جمود کے ساتھ ساتھ سماجی بے چینی کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلے کو محض وقتی بحران کے طور پر نہ لے بلکہ اسے ایک موقع سمجھتے ہوئے توانائی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے۔ توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کے سوا اب کوئی چارہ نہیں؛ چنانچہ ملک میں پٹرولیم کے محفوظ ذخائر کو بڑھانے کیلئے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔ ماضی میں اس حوالے سے متعدد مرتبہ غور وفکر اور منصوبہ بندی کی گئی۔ وقت آ گیا ہے کہ ملک میں پٹرولیم کے محفوظ ذخائر بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
یہ فیصلہ کن اقدامات اب نہ کیے گئے تو کل کلاں ایسا ہی بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے‘ جس کے اثرات سے نکلنا کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔ حکومت کو توانائی کے وسائل کیلئے خلیجی ممالک سے باہر بھی دیکھنا ہو گا۔ مثال کے طور پر روس اس سلسلے میں ایک اچھا شراکت دار ثابت ہو سکتا ہے۔ 2023ء میں تجرباتی بنیاد پر روس سے خام تیل درآمد کیا گیا مگر یہ سلسلہ جاری نہ رکھا گیا۔ تاہم گزشتہ روز اسلام آباد میں روسی سفیر کا یہ بیان کہ پاکستان باضابطہ رابطہ کرے تو سستا تیل فراہم کیا جا سکتا ہے‘ ایک اچھی پیشکش معلوم ہوتی ہے جس سے فائدہ اٹھانے کیلئے جائزہ لیا جانا چاہیے۔