ٹی بی کا خطرہ
ملک میں ٹی بی کی بیماری ایک سنجیدہ اور فوری توجہ طلب مسئلہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں سالانہ تقریباً چھ لاکھ 70ہزار افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں جن میں سے 51ہزار جان کی بازی ہار جاتے ہیں‘ یعنی ہر روز تقریباً 140افراد اس بیماری سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ امر متعلقہ حکام کیلئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے کہ پاکستان دنیا میں ٹی بی سے متاثرہ پانچواں سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ ٹی بی ایک ایسا مرض ہے جو زیادہ تر پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا اور ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص میں بآسانی منتقل ہو سکتا ہے؛ تاہم یہ ایک قابلِ علاج بیماری ہے اور بروقت تشخیص اور علاج معالجے سے اس بیماری سے ہونیوالی اموات میں کمی ممکن ہے۔

گوکہ ملک میں 1700سے زائد مراکز پر ٹی بی کے مفت علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں لیکن اس وقت بھی تقریباً ایک چوتھائی مریض علاج سے محروم ہیں۔ حکومت کو اس مرض پر قابو پانے کیلئے تشخیص اور علاج کی شرح کو بڑھانا ہو گا۔ ٹی بی کا علاج طویل ہونے کی وجہ سے اکثر مریض بیچ میں علاج چھوڑ دیتے ہیں جس سے یہ بیماری دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔ مستقل مزاجی کیساتھ علاج اور عوام میں شعور پیدا کرنے سے اس مرض پرقابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کو ٹی بی کیخلاف کمربستہ ہونا ہو گا تاکہ اس مہلک مگر قابلِ علاج مرض پر قابو پایا جا سکے۔