سکڑتا تعلیمی سال‘ لمحہ فکریہ
پٹرولیم بحران کے پیشِ نظر محکمہ توانائی پنجاب نے حکومت کو تعلیمی اداروں کو پندرہ اپریل تک بند رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ملک میں غیراعلانیہ چھٹیوں کی وجہ سے تعلیمی کیلنڈر مسلسل سکڑ رہا ہے۔ دنیا بھر میں تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کیلئے کم از کم 180تدریسی دن ضروری سمجھے جاتے ہیں مگر گزشتہ سال ملک عزیز میں صرف 127دن تعلیمی سرگرمیاں ممکن ہو سکیں۔ تعلیمی دنوں میں کمی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ طلبہ نصاب مکمل نہیں کر پاتے‘ نتیجتاً ان کی علمی کارکردگی ناقص رہ جاتی ہے۔ خاص طور پر میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طلبہ اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں بورڈ کے امتحانات میں ایک مقررہ اور مکمل نصاب کیساتھ بیٹھنا ہوتا ہے۔ دوسرا ہر بچے کوآن لائن تعلیم کی سہولت بھی میسر نہیں کہ بچے چھٹیوں میں اس سہولت سے استفادہ کر سکیں۔

ایک اندازے کے مطابق ملک میں بمشکل پانچ سے دس فیصد سکول ایسے ہیں جہاں چھٹیوں کے دوران آن لائن تعلیم کی سہولت ہوتی ہے۔ وہ طلبہ جو آن لائن کلاسز کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں‘ ان کو کسی حد تک اپنے نصاب سے جڑے رہنے کا موقع ملتا ہے مگر وہ بچے جو اس سہولت سے بھی محروم ہیں ان کے تعلیمی نقصان کا کوئی حساب نہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ آئے روز تعلیمی اداروں کی بندش کے بجائے کوئی متبادل حکمت عملی اختیار کرے تاکہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ ایک ایسی نسل جو ادھوری تعلیم کے ساتھ پروان چڑھے‘ وہ کیسے قومی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے؟