اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مذاکرات ضروری!

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں پاکستان کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کا آغاز ایک ایسی پیشرفت ہے جس نے امن کاوشوں کو تقویت دی ہے۔ اگرچہ ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے امریکہ کی پیش کردہ 15تجاویز کو مسترد کر دیا ہے مگر قریب ایک ماہ کی جنگ کے بعد یہ پیش رفت بھی معمولی نہیں کہ فریقین اب مزید طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی چینلز کو موقع دینے پر غور کر رہے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے اس حساس معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کی ہدایت کی ہے تاہم پسِ پردہ ہونے والی ہلچل اس بات کی غماز ہے کہ برف پگھلنا شروع ہو چکی ہے۔ اس تاریخی سفارتی پیش رفت میں پاکستان تنہا نہیں ہے‘ ترکیہ اور مصر کی عملی کوششوں کے علاوہ قطر جیسے جنگ سے متاثرہ ممالک بھی مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خطے کے مسائل کا واحد حل میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف تباہی لاتی ہیں اور تنازع کوئی بھی ہو‘ اس کا حتمی فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے۔ آج کے گلوبل ویلیج میں جہاں معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں‘ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بڑھتے شعلے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے معاشی اور سماجی مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں جنگ کے سبب سپلائی چین اور انرجی بحران کے سبب معاشی تسلسل کو جس قدر نقصان پہنچ چکا ہے‘ اس سے باہر نکلنے میں کئی سال بلکہ کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ میری ٹائم اور ایوی ایشن جیسے شعبے اس جنگ سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں‘ لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور‘ تیس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں‘ مالی اور انفراسٹرکچر کے نقصانات کا کوئی تخمینہ ہی نہیں لہٰذا متحارب ملکوں کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ پاکستان اور دیگر غیر جانبدار ممالک کی مخلصانہ کوششوں سے فائدہ اٹھائیں اور پائیدار امن کی راہ ہموار کریں۔ اس وقت ضد اور انا کو پسِ پشت ڈال کر وسیع تر عالمی مفاد میں سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا آسان ہوتا ہے مگر بھڑکتی آگ کو قابو کرنا کسی کے بس میں نہیں رہتا۔ عالمی قوانین کی پاسداری اور ایک دوسرے کے سرحدی تحفظ کی ضمانت ہی وہ بنیادی اصول ہیں جو دنیا میں امن واستحکام یقینی بنا سکتے ہیں۔ امریکہ اور ایران میں بداعتمادی کی وجہ ٹھوس ضمانت کی عدم دستیابی ہے ؛چنانچہ ضروری ہے کہ دیگر بااثر ممالک بھی آگے آئیں اور اس معاملے کو پائیدار حل کی طرف بڑھانا چاہیے۔

عالمی امن کیلئے ملکوں کی خودمختاری کا احترام یقینی بنانا ہو گا بصورت دیگر عالمی امن مسلسل خطرے کی زد میں رہے گا۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی‘ بداعتمادی اور اشتعال انگیزی کے ماحول میں سفارت کاری ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکتا ہے۔ شرائط اور مطالبات کا تبادلہ ایک ثانوی معاملہ ہے‘ بنیادی ضرورت مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہے۔ جب تک فریقین ایک دوسرے کے آمنے سامنے نہیں بیٹھیں گے‘ تب تک غلط فہمیاں دور نہیں ہو سکیں گی اور نہ ہی کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے گا۔ فریقین کی شرائط کڑی بھی ہو سکتی ہیں اور قابلِ قبول بھی‘ لیکن ان پر بحث تبھی ممکن ہے جب بات چیت کا باقاعدہ آغاز ہو۔ اس وقت ایک ایسے ہی فورم کی ضرورت ہے جہاں امریکہ اور ایران اپنے اختلافات پر کھل کر بات کر سکیں اور پاکستان نے یہ پلیٹ فارم مہیا کر کے امن کو ایک موقع فراہم کیا ہے۔ اب یہ متحارب فریقین کی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ اس موقع کو عالمی استحکام کی بنیاد بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا پھر خطے کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں