برآمدات میں کمی
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران میں ملک کی نان ٹیکسٹائل برآمدات سالانہ بنیادوں پر 17فیصد کمی کے باعث آٹھ ارب 25کروڑ ڈالر تک محدود رہیں۔ سب سے زیادہ‘ 35فیصد کمی زرعی اجناس کی برآمدات میں سامنے آئی۔ نان ٹیکسٹائل سیکٹرز کی مسلسل کمزوری ملکی معیشت کو خطرناک حد تک غیرمتنوع بنا رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث آنے والے مہینوں میں عالمی تجارت مزید متاثر ہو نے کا اندیشہ ہے۔ ایسے میں حکومت کو برآمدی شعبوں کو عالمی تیل بحران اور سپلائی چین کے ممکنہ دباؤ سے بچانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہئیں۔

تاہم اسی بحران کے اندر ایک موقع بھی موجود ہے۔ جنگی حالات میں خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پاکستان خلیجی ممالک کیلئے ایک فوڈ باسکٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے خلیجی ممالک کو غذائی اجناس کی برآمدات کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی ہے جسے فوری عملی شکل دی جانی چاہیے۔ زرعی شعبے کی بحالی اور برآمدات میں اضافے کیلئے جامع اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بیجوں کی بہتر کوالٹی‘ جدید آبپاشی نظام‘ کولڈ چین انفراسٹرکچر‘ ویلیو ایڈیشن اور زرعی تحقیق میں سرمایہ کاری کے بغیر یہ شعبہ عالمی مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گاجس کے معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔