اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

جنگ کے پھیلتے سائے اور داخلی منصوبہ بندی

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے تناظر میں ایوانِ صدر میں پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے مشترکہ اجلاس میں ریاست کے تمام ستونوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ موجودہ حالات میں مربوط اور جامع قومی حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور اسکے پاکستان کی سلامتی‘ معیشت اور خوراک کے نظام پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ معاشی نظم ونسق‘ فوڈ سکیورٹی‘ توانائی اور سکیورٹی پالیسیوں کو ہم آہنگ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ موجودہ حالات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب خلیج فارس میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری جنگ کے معاشی اثرات سنگین ہوتے جا رہے ہیں اور عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز انٹرنیشنل مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت میں 4.7فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا اور قیمت 107ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

ٹھیک ایک ماہ قبل اسکی قیمت 70 ڈالر کے لگ بھگ تھی اور چار ہفتوں سے جاری جنگ کے دوران قیمت میں پچاس فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ اس اضافے نے پاکستان جیسے ملکوں کیلئے‘ جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے‘ امپورٹ بل میں اربوں روپے کا اضافہ کر دیا ہے۔ قیمت میں اضافہ ایک طرف‘ سپلائی لائن میں جو خلل آیا ہے‘ اس نے توانائی کی قلت کے مسائل کو جنم دیا ہے جس نے کاروبارِ زندگی اور نظم مملکت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ توانائی کی قلت صرف بجلی یا گیس کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ اسکے اثرات براہِ راست معاشی ترقی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان حالات میں یہ فیصلہ ضروری تھا کہ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بچنے کیلئے طویل مدتی منصوبہ بندی لازم ہے جو بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی سکت رکھتی ہو۔ موجودہ حالات نے توانائی کے مقامی ذرائع کے فروغ اور ترسیلی نظام کی خامیوں کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان مسائل کا مستقل حل نکالا جائے۔ موجودہ بحران میں پاکستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے‘ وہ قومی آہنگی ہے۔ اجلاس میں بھی قومی اتفاقِ رائے کو برقرار رکھنے اور اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ پاکستان کے آئینی ڈھانچے میں صوبوں کو وسیع اختیارات حاصل ہیں لیکن قومی بحرانوں کے وقت یہ دیکھا گیا کہ وفاق اور صوبے ایک پیج پر نہیں ہوتے۔ توانائی کی بچت کی مہم ہو یا مہنگائی کا مقابلہ‘ جب تک تمام اکائیاں مل کر ایک سمت میں کام نہیں کریں گی نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ وفاق کا یہ تقاضا کہ توانائی سبسڈی کے بوجھ میں صوبے بھی اپنا حصہ ڈالیں‘ ایک حقیقت پسندانہ مطالبہ ہے۔

معاشی وسائل کی تقسیم کے بعد اب صوبائی حکومتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ قومی بوجھ کو بانٹنے میں وہ بھی اپنا کردار ادا کریں۔ عوام کو ایندھن کے کم استعمال اور پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ جیسے اقدامات اپنانے کی ترغیب دینے کیلئے بھی صوبائی حکومتوں کو آگے آنا ہو گا۔ نیز توانائی کی بچت‘ بازاروں کے اوقاتِ کار اور بجلی کے ضیاع کو روکنا بھی صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ لہٰذا مربوط اور منظم نظام کے تحت سب کو ایک ایسے فریم ورک کے تحت کام کرنا ہوگا جس میں ملک کے داخلی استحکام کو فوقیت دی جائے۔ دوسری جانب جنگ کے اثرات اور عالمی معاشی دباؤ کے ہنگام ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مفادِ عامہ کا تحفظ یقینی بنائے۔ حکومت کو ایک ایسے شاک آبزربر کے طور پر بروئے کار آنا ہو گا جو عوام کو جنگ کے معاشی اثرات سے زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھ سکے۔ سول اور عسکری قیادت کا ایک میز پر بیٹھ کر اہم فیصلہ سازی صائب اقدام تاہم اس بیٹھک کا اصل امتحان ان پالیسیوں کے نفاذ میں ہے جو ایک عام پاکستانی کو مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلا سکیں اور ملک کا معاشی تحفظ یقینی بنا سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں