اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

کفایت شعاری‘ مستقل قومی ضرورت

وفاق اور صوبائی حکومتوں نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے پیدا بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے حال ہی میں اپنے اخراجات میں کمی کیلئے کچھ اقدامات کیے ہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کی طرف سے بھی اسمبلی اراکین کی تنخواہوں میں 25فیصد کمی‘ اسمبلی کی 70 فیصد گاڑیوں کو استعمال نہ کرنے‘ سرکاری خرچ پر ضیافتوں پر پابندی اور بجلی کے اخراجات میں بھی 70 فیصد کمی جیسے اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں یہ اقدامات خوش آئند ہیں تاہم وفاق اور صوبائی سطحوں پر مقننہ اور عدلیہ کی طرف سے اس کارِ خیر میں شرکت کا ابھی انتظار ہے۔

ہمارے ہاں اقتصادی بحران کئی دہائیوں سے طویل المدت اقدامات کا متقاضی ہے۔ صرف مشرقِ وسطیٰ جنگ ہی نہیں قومی اقتصادی زبوں حالی کے پیشِ نظر بھی ہمیں اپنے اخراجات میں بھاری کمی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ کے قرض داروں میں سرفہرست ہیں اور آئی ایم ایف سے 24مرتبہ قرض لے چکے ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد اور صحیح استعمال صرف یہ ہے کہ اسے معاشی نظام کی درستگی کیلئے استعمال کیا جائے۔مگرعالمی مالیاتی ادارے کے پاس چوبیس بار جانے کا مطلب یہی ہے کہ ہم اس فنڈ کو درست طور پر استعمال نہیں کر رہے۔ ہمارا نظام صرف اس وقت درستی کی جانب گامزن ہو گا جب اسکی ابتدا اخراجات میں کمی سے کی جائے گی۔ جس روز حکمرانوں کی ملکی خزانے بارے سوچ تبدیل ہو جائے گی اسی روز سے ملکی معیشت استحکام کی جانب گامزن ہو جائے گی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں