سٹاف لیول معاہدہ
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 21کروڑ ڈالر کی نئی قسط کیلئے سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ رقم زرمبادلہ کے ذخائر اور ادائیگیوں کے توازن کو وقتی سہارا دے گی۔ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام اگست 2022ء میں اس وقت شروع ہوا تھا جب پاکستان شدید مالی بحران سے دوچار تھا۔ اگرچہ اس پروگرام کی معاونت سے نہ صرف ڈیفالٹ کا خطرہ وقتی طور پر ٹل گیا بلکہ مجموعی معاشی نظم و نسق میں بھی بہتری دیکھی گئی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قرض پر مبنی استحکام اپنی فطرت میں عارضی ہوتا ہے۔ اسی لیے آئی ایم ایف نے اپنی جائزہ رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط‘ ٹیکس نیٹ کی توسیع‘ توانائی کے شعبے کی اصلاحات‘ سرکاری اداروں کی نجکاری‘ گورننس میں بہتری اور کرپشن میں کمی جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا ہے۔

ان نکات سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ اب بھی پاکستان کی معیشت میں بنیادی ساختی کمزوریوں کو سب سے بڑا چیلنج سمجھتا ہے۔ جب تک ان مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا جاتا‘ محض قرضوں کی نئی قسطیں معاشی استحکام کی ضمانت نہیں بن سکتیں۔ قومی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے صرف مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کافی نہیں۔ اصل ضرورت پیداواری صلاحیت میں اضافے‘ برآمدات کے فروغ‘ صنعتی ترقی‘ زرعی اصلاحات اور کاروباری ماحول میں بہتری کی ہے۔