اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غضب للحق کے اثرات

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فتنہ الخوارج کے خلاف آپریشن غضب للحق کے بعد سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65فیصد کمی ہوئی ہے۔ آپریشن سے قبل رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران صوبے میں 240 سے زائد دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ آپریشن کے بعد‘ تقریباً ایک ماہ کے دوران یہ تعداد کم ہو کر 80 تک آ گئی ہے۔ دہشت گردی کے واقعات میں یہ نمایاں کمی اس تصور کو تقویت فراہم کرتی ہے کہ پاکستان بالخصوص خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا مسئلہ سرحد پار کے عوامل سے جڑا ہوا ہے۔ یہ صورتحال عالمی برادری کیلئے بھی ایک واضح اشارہ ہے کہ پاکستان کے افغانستان کی طر ف سے دہشت گردوں کی معاونت سے متعلق خدشات کوئی سیاسی بیانیہ نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے۔

پاکستان نے یہ تحفظات متعدد بار افغان عبوری حکومت کے ساتھ اور بین الاقوامی فورمز پر بھی اٹھائے تاہم عملی سطح پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ اب آپریشن غضب للحق کے بعد دہشت گردی میں نمایاں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی بیخ کنی کے بغیر پاکستان کے اندر مکمل امن کا حصول ممکن نہیں۔ افغانستان اگر سنجیدگی کے ساتھ دہشت گرد عناصر کے خلاف عملی اقدامات کرے تو خطے میں استحکام اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی اب بھی ممکن ہے۔ بصورت دیگر دہشت گردوں کی پشت پناہی پورے خطے کے امن کیلئے ایک مسلسل خطرہ بنی رہے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں