اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

امن کی تلاش

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو علاقائی اور عالمی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں سعودی عرب‘ ترکیہ ااور مصر کے وزرائے خارجہ کا آج سے شروع ہونے والا دو روزہ دورہ ٔ پاکستان بڑی اہم پیش رفت ہے۔ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ بھی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے روابط تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ یہ رابطہ کاری مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال سے نکلنے کے راستے تلاش کرنے کی مؤثر اور سچی کوششوں پر مبنی ہے۔ ایران امریکہ‘ اسرائیل جنگ مشرقِ وسطیٰ کے لیے سنگین ترین بحران ہے جس کے اثرات اس خطے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں محسوس کیے جارہے ہیں۔ یہ بحران انتہائی سطح پر پہنچ چکا ہے ؛ اس نازک صورتحال میں پاکستان نے ثالثی کے لیے آگے بڑھ کر عالمی امن کے لیے جو غیر معمولی کردار ادا کیا ہے وہ پاکستان کی پوزیشن اور عالمی اہمیت کے فروغ کا باعث بنے گا۔ ماضی میں عوامی جمہوریہ چین اور امریکہ کے درمیان رابطے قائم کرنے میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا تھا تاریخ نے اسے بھی فراموش نہیں کیا۔

یقینا ہر دو اقوام کو بھی پاکستان کے اس مصالحتی کردار کی اہمیت کا پورا احساس ہے اور دونوں ممالک کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بنیاد کی گہرائیوں میں اس تاریخی کردار کا اثر بھی موجود ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اس جنگ کے عالمی اور علاقائی اثرات ظاہر و باہر اور ڈھیروں ڈھیر ہیں۔ توانائی کی قیمتوں سے لے کر خطے کی صورتحال اور خلیجی ممالک کے تعلقات کے مستقبل پر اس کشیدگی کے اثرات تادیر باقی رہنے کا امکان موجود ہے۔ ان حالات میں پاکستان جیسے مصالحتی کردار کا منشا یہ ہے کہ اس کشیدگی کو پھیلنے سے روکا جائے اور اس کے منفی اثرات کی شدت کوبتدریج کم کیا جائے۔ اس تناظر میں تین اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کے دورۂ پاکستان کی اہمیت واضح طور پر سمجھی جاسکتی ہے۔ پاکستان جس ثالثی کے لیے کوشاں ہے یہ امریکہ اور ایران کی جاری جنگ کے اس ہنگامے میں وقت کی سب سے اہم ضرورت اور دانشمندی کا بدیہی تقاضا ہے ۔

دوسری صورت میں یہ اندیشہ موجود ہے کہ اس جنگ کے پھیلاؤمیں اضافہ ہو سکتا ہے۔پہلے ہی یہ جنگ لبنان تک پھیل چکی ہے اور حزب اللہ کی جانب سے شمالی اسرائیل پر بڑے اور بھر پور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اب یمن کے حوثیوں کی جانب سے بھی خبردار کر دیا گیا ہے کہ وہ بھی اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں۔ یمن کے حوثی بحیرۂ احمر کی اہم ترین گزر گاہ باب المندب پر بیٹھے ہیں‘ اور اس دوران جب آبنائے ہرمز بند کر کے ایران نے دنیا کی توانائی کی عالمی سپلائی کو اپنی مٹھی میں بند کر رکھا ہے‘ یمن کے حوثی اگر باب المندب بھی بند کردیتے ہیں‘ جس کی مشق وہ گزشتہ برسوں بارہا کر چکے ہیں‘ تو یہ عالمی تجارت خاص طور پر توانائی کی ترسیل کے لیے ڈراؤنا خواب ہو گا۔ یہ قرائن ثابت کرتے ہیں کہ صورتحال کی سنگینی جس درجے کو پہنچ چکی ہے اس میں کمی نہ کی گئی تو یہ دنیا کے لیے تباہ کن ہو گا۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی جانب سے ثالثی کے اقدامات کی اہمیت اور افادیت ابھر کر سامنے آ تی ہے۔

تاہم کوئی بھی پیشرفت متحارب فریقین کے اقدامات سے مشروط ہے ۔ اگر وہ جنگ کے میدان کو ٹھنڈا نہ ہونے دیں تو ثالثی کی کوئی بھی کوشش نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی۔سال بھر میں دوسری بار امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے جاری عمل کے دوران ایران پر حملہ کر دینے سے سفارتکاری کے عمل کو جو ضعف پہنچا وہ بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ اب جبکہ اس جنگ کے بھیانک اثرات قابو سے باہر ہو چکے ہیں ‘امریکہ کی جانب سے کوئی بھی ایسی حرکت جس سے یہ تاثر جائے کہ امریکہ جنگ بندی کو جنگی حکمت عملی کے لیے استعمال کر رہاہے‘ یہ ثالثی کی کوششوں کو اور مشکل بنا دے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں