"RS" (space) message & send to 7575

پاکستان: عالمی سفارت کاری کا محور

عالمی سیاست میں توازن برقرار رکھنا سب سے کٹھن کام ہوتا ہے‘ خاص طور پر جب آپ کے مفادات متصادم طاقتوں کے ساتھ جڑے ہوں۔ موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسلام آباد نے کیمپ پولیٹکس کو خیرباد کہہ کر قومی مفاد کو اولیت دی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی‘ خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات پر حملے اور سمندری راستوں کی بندش نے کئی ممالک میں دوریاں پیدا کر دی ہیں۔ ایسے میں کسی ایک ملک کی جانب ذرا سا جھکاؤ دوسرے کو ناراض کرنے کے لیے کافی تھا مگر پاکستان کی قیادت نے کمال مہار ت سے ایران اور سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو توازن میں رکھا۔ آج اگر ایران پاکستان پر اعتماد کر رہا ہے اور سعودی عرب پاکستان کو تیل کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے تو یہ پاکستان کی اس غیر جانبدارانہ اور مخلصانہ سفارت کاری کا ثبوت ہے جس کی پذیرائی اب واشنگٹن سے لے کر تہران اور ریاض تک کی جا رہی ہے۔ پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ کا سب سے بڑا ثبوت وہ چار فریقی اجلاس ہے جو 29اور 30مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس اجلاس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں ترکیہ‘ سعودی عرب اور مصر جیسے قد آور مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی صدارت میں ہونے والا یہ اجلاس محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ ایران امریکہ کشیدگی کو کم کرنے اور خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کا ایک ٹھوس منصوبہ ہے۔ پاکستان کا اس سطح کے اجلاس کی میزبانی کرنا یہ پیغام دیتا ہے کہ دنیا اب تنازعات کے حل کے لیے پاکستان کی جانب دیکھ رہی ہے۔ یہ اجلاس ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اب مسائل کے حل کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ آبنائے ہرمز جو عالمی تجارت‘ خاص طور پر تیل کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے‘ وہاں حالیہ کشیدگی کے دوران ایک حیرت انگیز منظر دیکھنے کو ملا۔ حالیہ دنوں میں10بین الاقوامی آئل ٹینکرز پاکستانی جھنڈا لگا کر آبنائے ہرمز سے گزرے‘ جو محض ان کی ایک تکنیکی ضرورت نہیں تھی بلکہ یہ پاکستانی پاسپورٹ اور پرچم کی عالمی ساکھ کا اعتراف تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاں آبنائے ہرمز میں بڑی طاقتوں کے پرچم بردار جہازوں کو خطرہ لاحق ہے‘ وہاں پاکستانی پرچم امن کا پاسپورٹ بن چکا ہے۔ اس سے دنیا کو یہ واضح پیغام گیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے جس کے تمام علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات اس قدر مضبوط ہیں کہ اس کا جھنڈا سمندروں میں تحفظ کی ضمانت بن گیا ہے۔
معرکۂ حق میں پاکستان کی تاریخی فتح سے پہلے صورتحال کچھ یوں تھی کہ عالمی سطح پر لابنگ کی وجہ سے بھارت کو پاکستان پر فوقیت حاصل تھی۔ سفارت کاری میں بھی بھارت ہم سے آگے تھا جس کی بنیاد پر بھارت خطے میں بڑی طاقت ہونے کا دعویدار تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارت نے ہمیشہ دوغلی خارجہ پالیسی کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی‘ لیکن آج وہ اپنی ہی غلطیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ بھارت کی اسرائیل نواز اور مسلم کش پالیسیوں نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ ایران جیسا اہم توانائی پارٹنر اس سے دور ہو چکا ہے۔ آج بھارت کے پٹرول پمپوں پر شہریوں کی کئی کلومیٹر لمبی قطاریں لگی ہیں اور امن و امان کی کیلئے وہاں پولیس تعینات ہے ۔ معیشت ایندھن کی قلت کے باعث ہچکولے کھا رہی ہے۔ مودی حکومت کی نااہلی نے بھارتی روپے کو دباؤ میں ڈال دیا ہے اور ترسیلاتِ زر میں کمی نے بھارتی معاشی ڈھانچہ ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ اگرچہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں مگر پاکستان میں حکومت نے بہترین حکمت عملی اور کفایت شعاری کے ذریعے پہلے اضافے کے بعد عوام پر مزید ناقابلِ برداشت بوجھ نہیں ڈالا۔ حکومت کا ترقیاتی بجٹ سے کٹوتی کرکے عوام کو اربوں روپے کا ریلیف دینا اور ایندھن کے ذخائر کو برقرار رکھنا ایک ایسی انتظامی کامیابی ہے جس کی مثال خطے کے دیگر ممالک میں نہیں ملتی۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور عمان کی جانب سے مشکل وقت میں ایندھن فراہمی کی پیشکش یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان اس مشکل صورتحال میں تنہا نہیں ہے۔ دیکھا جائے تو یہ اعتماد راتوں رات پیدا نہیں ہوا بلکہ دہائیوں کی مضبوط سفارت کاری اور حالیہ مہینوں میں سول و عسکری قیادت کے مشترکہ دوروں اور روابط کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک قابلِ اعتماد پارٹنر ہے جو مشکل وقت میں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا رہتا ہے اور بدلے میں اسے وہی عزت و وقار ملتا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے جہاں بہت سے ممالک کے لیے معاشی چیلنجز پیدا کیے ہیں‘ وہاں پاکستان نے اپنی سٹریٹجک لوکیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ حالیہ دنوں میں کراچی بندرگاہ پر ٹرانس شپمنٹ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ کراچی پورٹ پر 2025ء میں‘ یعنی پورے ایک سال کے دوران تقریباً 8300 کنٹینرز آئے جبکہ صرف گزشتہ 24دنوں میں 8313 کنٹینرز کے برابر مال پہنچا ہے۔ یہ سرگرمی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دنیا اب دبئی یا دیگر بندرگاہوں کے متبادل کے طور پر پاکستان کو سب سے محفوظ اور سستا راستہ سمجھ رہی ہے۔ اس دوران حکومت نے صرف باتوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ٹرانس شپمنٹ قواعد میں ترامیم کے ذریعے عملی اقدامات کیے ہیں۔ اس ضمن میں آف ڈاک ٹرمینلز کی گنجائش کو 60ہزار کنٹینرز تک بڑھانا حکومت کی ایک ماسٹر سٹروک ہے۔ اسی طرح نیشنل لاجسٹک کارپوریشن نے سکیننگ چارجز میں 50فیصد تک کمی کی ہے جبکہ ٹرانس شپمنٹ کارگو لانے والے جہازوں کے لیے وارفج چارجز میں 60فیصد اور سکیننگ میں 75فیصد تک رعایت دی گئی ہے۔ یہ مراعات عالمی شپنگ لائنز کو پاکستان کی طرف کھینچ رہی ہیں۔
پاکستان کا سفر اب ایک نیا رخ اختیار کر چکا ہے۔ پہلے ہمیں صرف ایک عسکری قوت اور سکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا مگر اب پاکستان ایک معاشی مرکز بن کر ابھرا ہے۔ سی پیک کے تحت بننے والا انفراسٹرکچر‘ گوادر کی گہری بندرگاہ اور اب کراچی پورٹ کی غیر معمولی کارکردگی نے پاکستان کو وسط ایشیائی ریاستوں سے لے کر یورپ تک کی تجارت کیلئے ایک ناگزیر راستہ بنا دیا ہے۔ پاکستان کی یہ کامیابی اس بات کی دلیل ہے کہ جب ریاست کے تمام ستون ایک پیج پر ہوں اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے تو بڑی سے بڑی رکاوٹ بھی ترقی کا زینہ بن جاتی ہے۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ خطے کی معیشت کو سہارا دینے کی اہلیت بھی رکھتاہے۔ ایران امریکہ تنازع میں پاکستان کی بہترین سفارت کاری نے اسے عالمی سطح پر ایک امن ساز ملک کے طور پر منوایا ہے۔ دنیا میں پاکستان کو اب ایک محفوظ ملک‘ ایک ذمہ دار ریاست اور ایک منافع بخش تجارتی منزل کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اگر ہم کچھ عرصہ تک اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہیں تو وثوق کے ساتھ کہا جا سکتاہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کی بندرگاہیں اور اس کی متوازن خارجہ پالیسی اسے ایشیا کا معاشی ٹائیگر بنا دے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں