جب جب کسی نرگسیت پسند انسان یا سیاسی لیڈر سے بات ہوتی ہے یا ان کی باتیں سنتا ہوں تو میرے ذہن میں بھارتی اداکار شترو گھن سنہا کا ڈائیلاگ آتا ہے کہ تاش کے دو بادشاہ ہیں‘ تیسرے بادشاہ ہم ہیں۔ یہ سب باتیں مجھے صدر ٹرمپ کی اپنی تعریف میں باتیں سُن کر یاد آرہی ہیں۔ کل ہی ایک پروگرام میں دوست فواد احمد نے مجھ سے پوچھا کہ جس طرح کے خطرات کا سامنا دنیا کو ہے اس کے بعد کیا لوگوں کو احساس ہونا شروع ہو رہا ہے کہ پاپولسٹ لیڈر کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں اور اب شاید ٹرینڈ بدل جائے گا؟ پچھلے دس پندرہ برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان‘ انڈیا‘ برطانیہ سے امریکہ تک پاپولسٹ لیڈر شپ ابھری جنہوں نے لوگوں کو عظمت کے قصے کہانیاں سنا کر کھویا ہوا وقار واپس دلانے کے نعرے مار کر الیکشن جیت لیے۔ پاپولسٹ لیڈر شپ کو ایک ہی چیز سے غرض ہوتی ہے کہ وہ وہی کچھ بولتے اور مسلسل بولتے رہیں جو لوگ سننا چاہتے ہیں۔ سچ جھوٹ کے چکر میں بالکل نہ پڑیں۔ ابھی چند دن پہلے رسل کرو کی نئی خوبصورت فلم نیورمبرگ دیکھ رہا تھا جو نازی جرمن لیڈروں کے ٹرائل پر بنائی گئی ہے۔ ہٹلر کا نمبر ٹُو بھی عدالت میں یہی بیان دیتا ہے کہ انسانی قومیں یا معاشرے خود کو دوسروں سے بہتر اور اعلیٰ سمجھتے آئے ہیں اور یہی کچھ جرمن نازی بھی سمجھتے تھے اور وہی جرمن قوم کو دنیا کی بہترین اور طاقتور قوم بنانا چاہتے تھے‘ لہٰذا اس عمل کے دوران انہوں نے جو کچھ کیا وہ اپنی قوم اور اپنے ملک کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیا‘ لہٰذا ان کو جنگی مجرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگرچہ ٹربیونل نے یہ دلائل مسترد کر کے بیس بائیس جرمن نازی لیڈروں کو سزائے موت سنائی جنہیں بعد میں پھانسی دی گئی۔ لیکن سوال یہ ہے کیا نیورمبرگ ٹرائل اور سزاؤں سے انسانی معاشروں میں وہ نعرے کم ہوئے کہ ہم اعلیٰ نسل کے انسان ہیں‘ ہم دنیا پر حکمرانی کریں گے‘ اس مقصد کیلئے چاہے ہزاروں لاکھوں انسان مارنے پڑیں‘ معاشروں میں مذہب‘ زبان یا نسل کی بنیاد پر دنگے کرانے پڑیں ہم کرائیں گے۔ یہی اصول ملکوں پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ دوسرے ملکوں پر حملہ کرکے ان قوموں کو تباہ و برباد کر دو یا غلام بنا لو تو ہی دنیا میں آپ کا قد اونچا ہو گا۔ یہی تاریخ میں ہوتا آیا ہے‘ یہی ہو رہا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔ یہ واحد انسانی اصول ہے کہ جو جتنا بڑا قاتل ہے وہ اتنا بڑا جنگجو یا فاتح کہلاتا ہے اور تاریخ اس کی عزت کرتی ہے۔ یہی ڈائیلاگ رسل کرو اس فلم میں کہتا ہے جب اس کا امریکن ماہر نفسیات ڈاکٹر قید کے دوران کہتا ہے کہ تم ہزاروں لوگوں کے قاتل ہو تو وہ جواب دیتا ہے کہ انسانی تاریخ میں جو سب سے زیادہ بندے مارتا ہے وہ ہیرو کہلاتا ہے‘ جیسے تم سکندر اعظم کو مانتے ہو۔ جس پر امریکن جواب دیتا ہے لیکن تم سکندر اعظم نہیں ہو۔ میرے خیال میں یہ کمزور جواب تھا کیونکہ وہی بات کہ حملہ آوروں کو ہیرو یا بہادر سمجھنا مسلسل عمل ہے لہٰذا ہر دور میں جب لوگ کسی پوزیشن یا عہدے پر پہنچتے ہیں تو ان پر بھی خبطِ عظمت سوار ہو جاتا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ انسانوں کو مارے بغیر ان کو کوئی بڑا لیڈر نہیں مانے گا‘ لہٰذا دنیا میں آج بھی جنگیں ہورہی ہیں۔ آج بھی ہزاروں لوگ ہماری آنکھوں کے سامنے مارے گئے اور مارے جارہے ہیں اور جو مار رہے ہیں ان کی باتوں یا آنکھوں میں کہیں کسی انسان کی موت کا ذرہ برابر افسوس یا شرمندگی نہیں ہے کیونکہ انہیں انسانوں‘ بچوں‘ عورتوں سے زیادہ اپنی عظمت اور اپنی شخصیت سے پیار ہے۔ انہیں اپنا آپ بھگوان سا لگتا ہے جسے انسانوں کی زندگی اور موت پر اختیار ہے کہ وہ اپنے ملک یا ملک سے باہر جہاں چاہیں جس کو چاہیں اپنی فوج یا اپنی پراکسی یا نان سٹیٹ ایکٹرز کے ذریعے مروا دیں۔ آپ انسانی تاریخ اٹھا لیں تو آپ کو ان لیڈروں میں ایک چیز کامن ملے گی‘ وہ ہے خبطِ عظمت‘ نرگسیت اور اپنی قوم کو دنیا کی بہترین قوم بنانے کا جنون۔ اس لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ پاپولسٹ لیڈرز معاشروں اور ملکوں کو تباہ کرتے ہیں۔ وہ ان کے اندر وہ جعلی غرور اور تکبر بھر دیتے ہیں جو نشے کی طرح کام کرتا ہے اور ہر روز انہیں وہ ڈوز درکار ہوتی ہے ورنہ ان کا بدن ٹوٹنے لگتا ہے‘ طبیعت خراب ہونے لگتی ہے۔ یہ بات یہ پاپولسٹ لیڈرز اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم نے روزانہ اپنے فالورز کو عظمت اور برتری کی خوراک دینی ہے اور مسلسل دینی ہے اور دوائی کی مقدار بڑھاتے چلے جانا ہے کہ وہ اور کسی طرف سوچ نہ سکے۔ اس کا ذہن ماؤف کیا جائے تاکہ وہ عظمت اور برتری کی کہانیوں سے باہر نکل کر نہ سوچے اور ان کی سب سمجھ سوچ میرے قابو میں رہے۔ آپ نے کبھی سوچا انسان نے فلمیں بنانا یا دیکھنا کیوں شروع کیں؟ یہ سب کام انسانی فنٹیسی کو سامنے رکھ کر شروع ہوا۔ یہ بات چند سمجھدار کاروباری لوگوں کو سمجھ آ گئی کہ سکرین پر لوگوں کو وہ دکھاؤ جو وہ سوچتے ہیں۔ جو خواب دیکھتے ہیں وہی انہیں سکرین پر دکھاؤ۔ انہیں تین گھنٹے تک سینما ہال میں پانچ سو یا ہزار روپے میں ہیرو بنا دو۔ ہر کوئی اس غریب ٹانگے والے میں خود کو دیکھتا ہے جب انگریز لارڈ کی خوبصورت بیٹی امرتا سنگھ بھارتی فلم 'مرد‘ میں امتیابھ بچن کی مردانگی سے متاثر ہو کر اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ 'قلی‘ فلم میں بھی یہی ہوتا ہے۔ پاکستانی فلموں میں سلطان راہی جب غریب مزدور بن کر انجمن کے سامنے نخرے کرتا تھا تو ہال سیٹیوں سے گونج اٹھتا تھا کہ ایتھے رکھ او جوانا۔ اتنی سوہنڑی کڑی کو ہمارا گھبرو غریب لفٹ نہیں کرا رہا۔ وہ سب غریب مزدور سلطان راہی میں خود کو رکھ کر دیکھتے اور سوچتے تھے اور ذہنی عیاشی کے مزے لیتے تھے۔ یہ سب پاپولر سینما ہے جس میں صرف وہ دکھانا ہے جو دیکھنے والا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ سارا دن زندگی یا گھریلو مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد شام کو سینما ہال میں اس بوجھ سے چھٹکارا پانے آیا ہے۔ اسے کچھ امید‘ کچھ خواب کچھ حوصلہ اور خود کو ہیرو سمجھنا ہے جو ٹانگے والا‘ قلی یا غریب مزدور ہو کر پنجاب کے چوہدری سے گنڈاسا لے کر ٹکڑ گیا ہے۔ ابھی انڈیا میں دھرندر فلم کو ہی دیکھ لیں۔ انڈینز کو اس بات سے غرض نہیں کہ ان کے گیارہ جہاز جنگ میں پاکستان نے مار گرائے اور پوری دنیا پاکستان کی بہادری کی داد دے رہی ہے کہ اپنے سے بڑے ملک کو دھول چٹا دی۔ بلکہ وہ اس بات میں اربوں کا بزنس فلم میکر کو دے رہے ہیں کہ چند بھارتی ایجنٹوں نے کراچی میں انڈر ورلڈ میں کارنامے کر دکھائے۔ کہاں ایک جنگ اور کہاں کراچی کی انڈر ورلڈ میں بھارتی ایجنٹوں کی کہانی۔ وہی بات کہ لوگوں کو فلموں میں حقیقت نہیں دکھانی کیونکہ لوگوں نے آرٹ فلموں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ مصالحہ فلمیں اب چلتی ہیں۔ اس طرح دنیا میں بھی مصالحہ ٹائپ لیڈر چلتے ہیں جو روز دبنگ بیانات دیں‘ اپنی عظمت کے گن گائیں اور بتائیں کہ وہ کتنے مہان ہیں اور خدا نے انہیں کسی بڑے مقصد کیلئے پیدا کیا ہے۔ وہ عام انسان نہیں ہیں۔ وہ ہر وقت اپنی تعریف سننا چاہتے ہیں۔ وہ خود کو کامیاب اور دوسروں کو ناکام سمجھتے ہیں۔ ان کے کان ہر وقت اپنی مداح کیلئے بے چین ہوتے ہیں۔ دوسروں کی کامیابی کی بات انہیں زہر لگتی ہے۔ اس لیے تو ہمارے پیارے ٹرمپ نے کہا ہے کہ '' میں ناکام لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں... اس طرح میں زیادہ بہتر محسوس کرتا ہوں... مجھے زیادہ کامیاب لوگ پسند نہیں کیونکہ وہ اپنی کامیابی کے قصے سناتے رہتے ہیں... مجھے تو ایسے لوگ پسند ہیں جو میری باتیں سنیں‘‘۔ وہی شتروگھن سہنا والا ڈائیلاگ کہ تاش کے دو بادشاہ ہیں‘ تیسرے بادشاہ ہم ہیں۔ یہ سب پاپولسٹ لیڈرز وہی تیسرے بادشاہ ہیں۔